تذکرۃ المہدی — Page 62
تذكرة المهدي 62 میں رکھو اور ظاہر مت کرو میں نے کہا ایسا نہیں ہو سکتا کہ میں منافق بنوں اور جو فضل خدا نے ہم پر کیا اس کو اوروں کو نہ سناؤں مخالف ہوں تو ہوا کرو بندہ کو اس کا کچھ خوف ہے اور نہ غم اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ پس اس کا کفران نعمت کیونکر کیا جائے مجھ سے تو اس مولوی نے یہ باتیں کیں اور لوگوں سے کہا کہ سراج الحق نے نیا عقیدہ بنایا ہے اس کی پیری و مریدی نا جائز ہے بہتر ہے کہ اس سے الگ ہو جاؤ مولویوں کا یہی حال ہے کہ منہ پر کچھ اور پیٹھ پیچھے کچھ تب ہی تو اس عظیم الشان مصلح کی ضرورت پڑی کسی صادق مامور مرسل کی پہچان ضرورت زمانہ سے خود بخود ہو جاتی ہے ضرورت زمانہ مامور مرسل کے لئے بہت بڑی شہادت ہے۔ان دونوں رسالوں مذکورہ میں یہ بھی حضرت اقدس علیہ السلام نے رقم فرمایا ہے کہ بعض لوگ بد بخت کاٹے جائیں گے اور وہ ہیزم جنم ہوں گے میں نے اس کے جواب میں حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں لکھا کہ حضور میرے لئے دعا کریں کہ میں ایسے لوگوں میں نہ ہوں اور مجھ کو اللہ تعالیٰ مستقل اور مستقیم رکھے کہ تادم واپسیس مرا ایمان آپ پر سلامت رہے اور دنیا و آخرت میں آپ کی معیت نصیب رہے ایسا نہ ہو کہ میں کاٹا جاؤں اور میں اللہ تعالی کی حفاظت اور پناہ چاہتا ہوں میں صدق دل اور صحیح ارادت سے آپ کو آپ کے دعوئی میں ایسا ہی سچا مانتا ہوں جیسے حضرت محمد رسول اللہ اللہ کو سجا مانتا ہوں اس کے جواب میں حضور علیہ السلام نے مجھے کو یہ تحریر فرمایا کہ خدا کا شکر ہے کہ تم کو کوئی ابتلا پیش نہیں آئی اور میں دل سے تمہارے لئے دعا کرتا ہوں کہ تم کو اللہ تعالیٰ ثابت قدم رکھے پھر جب یہ عاجز حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں لودھیا نہ حاضر ہوا اور اس کے سوا اور کئی بار اس کا ذکر فرمایا کہ خدا نے تمہاری دعا قبول کی اور محفوظ کر لیا اور فرمایا کہ الاقدم فاقدم ایک روز میں نے مشکوۃ کھول کر باب نزول عیسیٰ علیہ السلام دیکھا تو اس