تذکرۃ المہدی — Page 61
تذكرة المهدى 61 مسیحیت لیکر مبعوث ہوئے لاکھوں کروڑوں پر موں علماء فضلا اولیاء ابدال غوث و قطب اسی تمنا اور اسی آرزو میں چل ہے کہ مہدی و مسیح ہمارے وقت اور ہمارے زمانہ میں ہو لیکن ان کی یہ آرزو یہ تمنا یہ امید پوری نہ ہوئی۔اور وہ یہ خواہش دل کی دل میں ہی لے گئے یہاں تک کہ آنحضرت ا کو بھی انتظار رہا لیکن آپ اپنے صحابہ کو وصیت کر گئے کہ جو اس مبارک وجود مهدی معہود مسیح موعود کو پائے میرا اس کو سلام کہدے۔سو حضور عالی میرا سلام تو ہمیشہ خط اور ملاقات کے ذریعہ پہنچ جاتا ہے۔لیکن اب میں خاص طور پر اپنی طرف سے اور حضرت رسول اکرم ا کی طرف سے حسب الارشاد سلام پہنچاتا ہوں اللہ تعالٰی نے بموجب فرمودہ اور وعدہ معذره قرآن مجید كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةُ ہم نابکاروں گنہگاروں کے اوپر رحمت کی نظر فرمائی اور آپ کو ہماری رہنمائی کے لئے مبعوث فرمایا اور ہم لوگوں کو گرتے ہوئے تھام لیا الحَمْدُ للهِ ثُمَّ الْحَمْدُ لِلهِ اب میں بھی عنقریب خدمت والا میں حاضر ہوتا ہوں و السلام اس عریضہ کے ڈاک میں ڈالنے کے بعد ایک رسالہ فتح اسلام کا اور توضیح مرام بھی مرسل حضرت اقدس مجھے مل گیا ان دو رسالوں کے دیکھنے سے آنکھیں کھل گئیں اور میں لائق ہو گیا کہ مخالف کو کافی وشافی جواب دے سکوں دماغ کی قوت ذہن کی رسائی اور دل میں ایک روشنی پیدا ہو گئی اب تو زور شور سے کھلم کھلا یہی وعظ ہونے لگا مولوی غلام محی الدین سجادہ نشین جو کوٹ پوتلی میں ہمیشہ سے رہتے تھے ان کا اثر بھی سکناء کوٹ پوتلی پر بہت تھا وہ ایک روز علیحدگی میں مجھے ملے اور انہوں نے اشتہار اور دونو رسالے دیکھے اور پڑھے کہنے لگے صاحبزادہ صاحب یہ کوٹ پو تلی تمام شہر تمہارا مرید ہو گیا ہے گو ظاہر میں آپ کے دباؤ اور لحاظ سے کچھ نہیں بولتے لیکن دل میں مخالف ہیں یہ رسالے ہیں تو درست اور مدلل و مبرہن پر آپ کے یہ مرید برگشتہ ہو جائیں گے یہ بات دل