تذکرۃ المہدی — Page 46
تذكرة المهدي 46 میں عماد الدین نے لکھا ہے کہ مسلمانوں میں کوئی دلی نہیں ہوا۔ہاں ایک شخص کو سنا ہے کہ بلہ شاہ قصور میں ہوا ہے۔اس کی کافیاں سننے اور دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اسلام کو کوئی چیز نہیں سمجھتا ہے اور برے لفظوں سے یاد کرتا ہے اور شراب اور اباحت کو پسند کرتا ہے اور اسلام کی جابجا کافیوں میں توہین کرتا ہے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ ایسے ہی لوگوں نے اسلام کو بدنام کیا ہے یہ لوگ در حقیقت ننگ اسلام اور عار ایمان ہیں۔ایسے لوگوں کا وجود بد نام کننده صلحاء ہے مسلمانوں کو ایسے لوگوں سے عبرت پکڑنی چاہئے کہ نہ ایسے لوگ ہوتے اور نہ اسلام پر دھبہ لگتا۔اگر چہ اسلام تو ایسا منور ہے کہ اس پر کسی قسم کا داغ رجبہ نہیں لگ سکتا۔لیکن ایسے لوگوں سے بجائے نفع کے نقصان پہنچا اور جن کے دلوں میں زیغ اور کجی ہے وہ ایسی ایسی باتیں پیش کر دیتے ہیں اور عمدہ پاک لوگوں کو چھوڑ کر ایسے بیہودہ لوگ چھانٹ لیتے ہیں ورنہ اسلام نے تو اپنی پاک تاثیرات سے ہزار درہزار اور کروڑور کروڑ انسانوں کو اس درجہ پر پہنچا دیا که ده درجہ مسیح کو بھی حاصل نہیں ہوا۔پھر میں نے عرض کیا کہ پادری عماد الدین وحدت الوجود کا سخت دشمن ہے حضرت اقدس یہ بات سن کر ہنسے اور فرمایا کہ اس کو دشمن ہونا ہی تھا کیونکہ انھاں دیاں جڑاں پٹیاں جاندیاں نے پنجابی زبان میں جملہ فرمایا اس کا بیان شرح کے طور پر یہ فرمایا کہ ان کے مصنوعی اور وہی عقائد الوہیت اور امنیت اور کفارہ خاک میں مل جاتا ہے اور انھاندا لکھ نہیں رہندا یعنی ان کا ایک تنکا بھی باقی نہیں رہتا ہے جب ہر شے خدا ٹھری اور ذرہ ذرہ دہی ہوا تو تثلیث رہی نہ امنیت رہی نہ الوہیت رہی سب یک دم تہس نہس ہو گیا جیسے کو تیسا ایسوں کے مقابلہ پر اس قسم کے لوگ بھی کام دیجاتے ہیں جیسے شیعوں کے مقابلہ پر خوارج الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ آخر کار منشی صاحب مرحوم نے چند جگہ سے مضمون کتاب کا سنایا۔اور کچھ