تذکرۃ المہدی — Page 47
47 تذكرة المهدي میں نے سنایا پھر فرمایا کہ ہم اس کو اول سے آخر تک پڑھ کر کافی جواب لکھیں گے پھر فرمایا کہ پادری عماد الدین جو کہتا ہے کہ اسلام میں ولی نہیں ہوا ہے اس کو خبر ہی کیا ہے کہ ولی کیسے ہوتے ہیں اور کن پر ولایت کا اطلاق آتا ہے اب پادری عمادالدین آنکھ کھول کر دیکھے اور نقد دیکھے کہ کیسے ولی ہوتے ہیں اور اب تو ولی الاولیا موجود ہے۔مبائعين ایک روز کا ذکر ہے کہ حضرت امیر الضعفاء جناب میر ناصر نواب صاحب نے ہنس کر مجھے پیران پیر فرمایا میں نے میر صاحب سے عرض کیا کہ یہ جملہ تو صحیح نہیں ہے اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ ایک پیر کے بہت سے پیر ہاں پیر پیران درست ہے سو یہ دونوں جملے میرے لئے ٹھیک اور درست نہیں کیونکہ میرا تو ایک ہی پیر ہے جو پیر پیراں ہے اور پیر پیراں میں نہیں اس کے مصداق حضرت اقدس علیہ السلام ہیں۔میں حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں گیا ہاں خوب یاد آگیا اس واسطہ گیا تھا کہ چونکہ خطوط کے جواب اس زمانہ میں میں لکھا کرتا تھا اور کا رجسٹر بھی میرے پاس تھا جو خطوں کے ذریعہ بیعت ہوتے وہ میں رجسٹر میں درج کر لیتا تھا اور جو حاضر ہو کر بیعت کر تا تو میں حاضر ہوتا اور جو کبھی حاضر نہ ہوتا تو آپ مجھ کو بلوا لیتے اور فرماتے کہ ان کا نام معہ پتہ سکونت وغیرہ درج رجسٹر کر لو اور بعض دفع خود بیعت کنندہ سے بعد بیعت فرماتے کہ تم اپنا نام صاحبزادہ صاحب کو لکھوا آؤ۔پس میں حضرت اقدس کی خدمت میں بے تکلف تھا۔حاضر ہوا فرمایا کیسے آئے ہو صاحب زادہ صاحب! میں نے عرض کیا کہ خطوط کے جواب کے لئے آتے ہوں تو عنایت فرما دیجئے فرمایا ہاں ہیں اور بیعت کنندوں کے بھی خطوط ہیں پھر فرمایا کہ پیراں پیر اور پیر پیراں پر کیا گفتگو تھی میں سمجھ گیا کہ شاید اس وقت حضور کو کشف سے معلوم ہو گیا ہو گا میں نے تمام گفتگو عرض کر کے کہا کہ حضور تو پیراں پیر ہیں فرمایا پیر پیراں جملہ صحیح ہے پھر فرمایا کہ ہم ایک روز صحن مکان میں لیٹ رہے تھے جو ہمیں کشف ملکوت ہوا اور کشف میں