تذکرۃ المہدی — Page 278
تذكرة المحمدي 278 حصہ دوم مشین یا کل کو کوئی شخص ہاتھ میں پکڑے تو اس کا ہاتھ سن ہو جائے گا اور چھوٹ نہیں سکے گا ایسا ہی اگر دوسرا شخص اس کا ہاتھ پکڑلے تو اس پر بھی برقی اثر ہو جائے گا یہاں تک کہ اگر دس اور ہیں اور پچاس سو تک ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑتے جائیں تو وہ برقی اثر سب پر یکساں اثر کرتا چلا جائے گا اگر درمیان میں کچھ بھی فصل رہے گا تو وہ برقی طاقت رک جائے گی اور اس کی قوت جذب کام نہیں دے گی اور وہ جدائی جو واقعہ ہوئی ہے وہ اس برقی طاقت کو آگے نہیں چلنے دیگی اور روک ہو جائے گی۔اسی طرح اگر نماز کی صف میں کچھ فصل مل کر کھڑے ہونے میں ہو گا تو قوت روحانی یا اثر باطنی ایک دوسرے میں سے ہو کر آ رہا تھا وہ رہ جائے گا اس کا نام اصطلاح شریعت میں شیطان رکھا ہے۔پس اب یوں خیال کرو کہ اب جو ظہر کی نماز ہماری اس مسجد میں ادا ہوئی تو دوسری مساجد میں بھی جماعتیں ہو ئیں اور دوسرے گاؤں اور شہروں میں یہاں تک کہ تمام جہان میں جماعتیں ہو ئیں تو خانہ کعبہ کے چاروں طرف جماعتیں ہوئیں تو تمام جماعتوں اور صفوں کا گول حلقہ بیت اللہ کے ارد گرد ہو گیا اور وہ اپنی مد در شکل میں جسمانی حلقہ بندھ کر روحانی طور سے بھی سب کا ایک حلقہ بن گیا۔اس کی مثال بنٹی کی سی ہے کہ ایک بانس کی لمبی لکڑی کے دونوں سروں پر تیل میں تر کر کے آگ لگادی جاتی ہے اور ایک مشاق اس کو گھماتا اور چکر دیتا ہے تو اگرچہ وہ دو جگہ علیحدہ علیحدہ آگ روشن ہے مگر گھمانے اور چکر دینے سے اس کا ایک گول حلقہ دکھائی دیتا ہے کہ ایک ذرہ بھی فرق معلوم نہیں ہوتا ہے۔ای طرح تمام جماعتیں اور صفیں اگر چہ دیکھنے سے الگ الگ مسجدوں میں قائم ہیں مگر حقیقت میں بنٹی کے حلقہ کی طرح ایک ہی جماعت کے حکم میں روحانی طور پر ہو جاتی ہیں اور وہ سب صفیں جو دست بستہ اپنے اپنے مقام پر کھڑی ہیں اپنے جسمانی اتصال اور روحانی اثر سے موثر ہو کر بیت اللہ سے فیضیاب ہوتی اور رحمت و فضل الہی کو اپنے اندر جذب کر لیتی ہیں کیونکہ بیت اللہ وہ مقام ہے