تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 279 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 279

تذكرة المهدى 279 جو إِنَّ اوَّلُ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آنحضرت الل کے لئے کامل تجلی الہی کا مقام ہے اور کلام الہی کے نزول کی جگہ ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی حکم ہوا کہ یہاں آنے کے لئے اعلان کردو اور آنحضرت ا کو بھی حکم ہوا اور آپ کے ذریعہ سے تمام لوگوں کو حکم پہنچا اور بڑے بڑے وعدے یہاں سے ہوئے۔مولوی صاحب خیال کرو کہ جماعتوں میں ہر زمانہ میں اولیاء ابدال اقطاب صلحاء اتقیا غوث مجدد محدث محدث ہوتے ہیں اور عام مومنین بھی وہ تمام مل کر بیت اللہ یعنی مجلی گاہ اعظم اللہ تعالٰی سے فیض رحمت برکت کھینچتے ہیں اور اپنے اندر جذب کرتے ہیں اللہ تعالٰی نے فرمایا وَ الَّذِيْنَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ ملنا ہی سر اور رمز ہے جو سب کے سب بیت اللہ کی طرف منہ کر کے کھڑے ہوتے ہیں تاکہ توجہ الی اللہ پورے طور سے ہو اگر ایک طرف منہ نہ کیا جاوے اور متفرق طور پر اپنی اپنی مرضی سے جدھر چاہیں منہ کر لیں تو کس طرح فساد لازم نہ آجاوے اور کیونکر وحدت ہو سکتی ہے اگر ایک واعظ کھڑا ہو کر وعظ کرے اور سننے والے وعظ کو چھوڑ کر دوسری طرف جدھر جس کا دل چاہے منہ کر کے بیٹھ جاوے یا کھڑا ہو جاوے تو کیسی ابتری اور بیہودگی ہوگی نہ سننے میں اثر ہو گا اور نہ واعظ کی توجہ پوری پوری ان کی طرف ہوگی اور نہ کوئی اس سے فائدہ اٹھائے گا بلکہ الٹا اثر ہو گا۔یمی راز بیعت کی حقیقت کو آشکارہ کرتا ہے ظاہری بیعت باطنی بیعت پر اثر انداز ہوتی ہے آجکل جو فرقہ بندیاں ہو رہی ہیں اور ایک امام کے تابع نہیں اور ایک دو سرے کو کافر و مرتد کہتے ہیں اور جس منصب کے وہ مستحق نہیں خود بنتا چاہتے ہیں ہر شخص انا نیت کا دم مارتا ہے اور وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جميعًا کو چھوڑتا جاتا ہے جو مسمریزم کی طرف اشارہ ہے تو وحدت کیونکر پیدا نہو سب کے سب متفرق ہو کر یک دم محروم ہو گئے اور کیونکر وصول الی اللہ کی