تذکرۃ المہدی — Page 277
تذكرة المهدى 277 کہتے ہیں اور مٹی سے انسان کی پیدائش ہے خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَه كُن فيكون میرا لڑکا سلطان احمد بھی ایک میز کہیں سے لے آیا تھا وہ بھی ہاتھ رکھنے سے حرکت کرتی تھی۔اللہ تعالٰی نے ہمیں الہاماً فرمایا کہ یہ عمل الترب ہے صحیح میں بھی یہ قوت تربی اچھی خاصی تھی ہمارے الہام میں ہے هَذَا هُوَ التَّرْبُ الَّذِي لَا يَعْلَمُها الخَلْقُ یہ وہ عمل ترب ہے کہ مخلوق اس کی شناخت سے بے خبر ہے پہلے زمانہ میں فقراء کے پاس تھا وہ اس کو پوشیدہ راز سمجھ کر کسی کو نہیں جتلایا کرتے تھے سوائے خاص لوگوں کے صرف ان میں یہی تھا کہ دوسرے شخص کو بے ہوش کر دیتے یہ ان کی کرامت ہوتی تھی مگر اب مسمیریزم کے نام سے لوگ گھبراتے ہیں فقراء صوفیہ کی اصطلاح میں اس کا نام توجہ اور تصور ہے اگر کسی کو مسمیریزم نام اچھا نہ معلوم ہو تو اس کو توجہ اور تصور کہہ سکتے ہیں غرض اسلام نے اس کو اس طرح سے لیا ہے کہ پہلے مصافحہ اور معانقہ کی صورت میں اگر چہ اوروں میں بھی مصافحہ اور معانقہ ہے لیکن بے اصل یوں ہی دل لگی کے طور سے۔پھر نماز با جماعت میں۔رسول الله لا لا لا لال نے فرمایا کہ نماز با جماعت میں مونڈھے سے مونڈھا اور پاؤں سے پاؤں ملا کر کھڑے ہو اور اپنے درمیان کچھ فاصلہ نہ رکھو کہ خالی جگہ شیطان داخل ہو جائے گا یہ اس بات کو ظاہر کیا کہ ایک شخص کی توجہ جسمانی اور روحانی دوسرے شخص میں سرایت کر جاوے جماعت میں جیسے جسمانی رنگ میں کوئی ضعیف اور کوئی قوی ہوتا ہے ایسا ہی روحانی اور باطنی کیفیات میں بھی ضعف و قوت کا فرق ہوتا ہے تو جب اس میں ایک دوسرے کے ملنے سے ایک دیوار کی طرح ہو جائیں گے اور مل کر کھڑے ہونے سے ایک دوسرے کی تاثیر اور فیوض اور جذب روحانی پھیل کر سب میں پہنچ جاوے گی۔جب پہلی صف اپنی قوت اور جذب روحانی سے پر ہو جائے گی تو پھر اس صف کا اثر دو دوسری صف پر پڑے گا اور پھر ان دونوں صفوں کا اثر تیسری پر پہنچے گا اس کے سمجھنے کے لئے بجلی کی مشین کی سی ہے جو آج کل نکلی ہے اگر اس بجلی کی