تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 239 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 239

تذكرة المهدي 239 کا دعویٰ کیا ہے۔میں نے کہا کہ تم غلط کہتے ہو اس نے کہا کہ مرزا صاحب نے لکھا ہے المحدث نبی میں نے کہا کہ ہاں لکھا ہے - محدث کا لفظ ہی ثابت کرتا ہے کہ دعوی نبی نہیں ہے کیونکہ آگے اس عبارت میں فرماتے ہیں کہ امناً با نقِطَا بها ساری عبارت پڑھئے تو خاموش ہو گیا میں نے یہ واقعہ حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا آپ نے فرمایا کہ صحیح جواب اس کا یہی تھا کہ أمَنَّا بِاِ نُقِطَا عِهَا یہ لوگ نبوت کے معنی ہی نہیں سمجھے ، صرف ایک حروف کو لے رکھا ہے بخاری شریف کو یہ لوگ پڑھتے ہیں مگر تدبر نہیں کرتے اسی میں لکھا ہے کہ لَمْ يُبْقى مِنَ النُّبُوَّةِ الخ یہ بات دراصل یہ ہے کہ جب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دہلی تشریف لائے تو آتے ہی مولوی نذیر حسین سے مباحثہ کرنا چاہا اور آپ سے ایک روز پیشتر مولوی محمد حسین بٹالوی دہلی آ گیا تھا۔اس نے آتے ہی مولوی نذیر حسین کو بہکایا اور تمام عام و خاص مولویوں وغیرہ سے کہا کہ تم مرزا سے تقریر میں تحریر میں ہرگز نہیں جیت سکتے ہاں ٹھٹھے نہیں۔تمسخر سب و شتم اور پر افترا اشتہاروں سے فتح پا سکو گے وجہ یہ کہ مولوی محمد حسین بٹالوی اور مولوی شاء اللہ امرتسری وغیرہ میں تقویٰ امانت دیانت نہیں ہے اور ان کا اللہ تعالی پر اور جزا و سزا کے دن پر ایمان ہے میں اللہ تعالی جل شانہ کو حاضر ناظر جانکر اور اس کی ذات کی قسم کھا کر ہر جگہ بلکہ بیت اللہ میں کھڑے ہو کر قسم کے ساتھ حلف اٹھا کر کہہ سکتا ہوں کہ انکا یقینا یقین اللہ تعالی پر ایمان نہیں ہے۔تب ہی تو یہ ہر ایک فریب مکر ٹھٹھے تمسخر کذب کو روا ر کھتے ہیں۔مولوی محمد حسین نے لدھیانہ میں مباحثہ کے ایام میں یہ کہا تھا کہ اگر مرزا کا قرآن سے دعوئی ثابت ہو جاوے تو میں ہرگز نہیں ماننے کا بلکہ قرآن کو چھوڑ دوں گا۔جو مرزا کے دعوے کو سچا کرے۔اللہ اللہ بڑا بول منہ سے بولا۔اب تم اے ناظرین اس کے رسالے اشاعت السنہ کی وہ جلدیں جو بعد دعویٰ حضرت اقدس علیہ السلام نکلتی رہی ہیں۔پڑھ کر غور کر کے دیکھ لو کہ اس شخص یہودا اسکریوطی نے قرآن