تذکرۃ المہدی — Page 238
تذكرة المهدى 238 مجھے رافضی کی خنزیر کی شکل معلوم ہو جایا کرتی ہے۔یہ بات در حقیقت سچ ہے اللہ تعالی نے بھی قرآن شریف میں کُونُوا قِرَدَةً خَاسِئِینَ یہود کی نسبت فرمایا کہ تم بندر بن جاؤ۔اور ذلیل بندر بننے سے یہ بات نہیں کہ وہ سچ مچ بندر بن گئے۔جیسے یہ بندر جو درختوں پر چڑھے پھرتے ہیں مکانوں پر کو دتے پھرتے ہیں بلکہ ان کی اس صفت کا اظہار ہے جو بندروں میں لڑنا بھڑنا لوگوں کا نقصان کرنا۔لوگوں کی چیزوں کا برباد کرتا ہے۔اسی طرح یہ علماء بندر کی صفات سے متصف ہو کر انبیاء کی تبلیغ کو پھیلنے نہیں دیتے۔اور رات دن شریعت حقہ کی بگاڑ میں رہتے ہیں۔ہر ایک یہی چاہتا ہے کہ جو کچھ ہوں میں ہوں۔عقل ہے تو مجھ میں ذہن ہے تو مجھ میں علم ہے تو مجھ میں سمجھ ہے تو مجھ میں اور دیکھو تو کچھ بھی نہیں بندر بھی ہوشیاری جتاتا ہے۔لیکن حیوانیت کا زیادہ حصہ رکھنے کے باعث حیوانیت سے بھی گرے کام کر دکھاتا ہے۔1 جب مولوی محمد بشیر کو اہل دہلی (دمشق) نے بلوایا تو مولویوں نے یہ کہا کہ تمہارے پاس وہ کونسی آیت حیات مسیح علیہ السلام میں قطعی و یقینی الدلالہ ہے جس کو تم مرزا صاحب کے مقابلہ میں پیش کرو گے۔ہم کو بھی سناؤ۔اس جلسہ میں تمام مولوی مقلد غیر مقلد شامل تھے۔مولوی محمد بشیر نے یہ آیت پڑھی کہ واِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ تو مولویوں نے کہا کہ اس آیت سے تو قطعی الدلالتہ تو الگ اشارہ کنایہ کے ساتھ بھی حیات مسیح نہیں نکلتی۔مولوی بشیر نے کہا کہ میں تو یہی آیت پیش کروں گا۔تمام مولویوں نے کہا کہ ہم تمہارے ساتھ نہیں ہیں۔تمہاری فتح و شکست کا اثر ہم پر نہیں ہے تب تمام مولوی عالم مولوی محمد بشیر سے علیحدہ ہو گئے اور مباحثہ کے وقت سوائے دو چار طالب علموں کے اور کچھ عام لوگوں کے اور کوئی بھی مولوی بشیر کے ساتھ نہ تھا ایک مولوی محمد احمد پینوہ تھا شاید علی جان والوں میں سے تھا وہ متعصب حضرت اقدس علیہ السلام کا سخت منکر تھا ایک روز کہنے لگا کہ مرزا صاحب نے یقینی نبوت