تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 240 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 240

تذكرة المهدى 240 کو چھوڑا۔یہاں تک کہ آنحضرت ﷺ کی پنہانی تکذیب کی ہے اگر میرا کہنا فضول ہے تو اس کی جلدیں ایک ایک کر کے دیکھ لو کہ اس سے کیا ثابت ہوتا ہے پس اس یہودا اسکریوطی کے کہنے کے مطابق سب اہل دلی (دمشق) نے کر کے دکھایا پہلے پہلے مولوی بشیر نے بھی نرمی برقی تو مولویوں نے اور نیز محمد حسین بٹالوی نے کہا کہ مولوی صاحب تم نے غضب کیا کہ نرمی اختیار کی ہے۔جس قدر سختی و درشتی کرد گے اس قدر فتح پاؤ گے ورنہ تم شکست کھاؤ گے ہزیمت اٹھاؤ گے مولوی بشیر نے اس بات کو نہ مانا مگر کیا کرے مجبورا اس نے بھی پچھلے دنوں میں بختی اور درشتی کا برتاؤ کیا ت ہم سنگ جاناں کو سمجھے تھے ہم پنچ اگر علی کہیں علی سی جب حضرت اقدس علیہ میاں نذیر حسین کا مباحثہ سے گریز السلام نے مولوی نذیر۔حسین سے مباحثہ چاہا تو مولوی نذیر حسین نے بمشورہ بٹالوی وغیرہ یہ کہا کہ میرے شاگردوں سے مباحثہ کر لو یعنی انا خَيْرٌ مِّنْهُ (دہلوی (دمشقی) ہوں اور تم ایک گاؤں کے رہنے والے ہو۔دیہاتی آدمی کو شہر پر کیا فوقیت ہے۔خَلَقْتَنِی مِنْ نار کے مضمون کو ادا کر دیا۔شاباش اے نذیر حسین مردوں کا یہی کام ہے کہ کہہ جائے سو کر جائے بہت مولویوں نے یہ بھی اشتہاروں میں لکھا اور زبان سے بھی کہا کہ اگر مسیح موعود ہونا چاہئے تھا تو دہلی والوں سے ہونا چاہئے۔یہ پنجابی ڈھگا مسیح موعود کیوں پتا۔بہت سے آدمی حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں تمسخر سے آتے بعضے غصہ سے لال پیلے ہوئے آتے۔اور کھڑے کھڑے ہاتھ لمبا کر کے بڑھا کے حضرت اقدس علیہ السلام کی ریش مبارک تک ہاتھ لے جاکر کہتے ارے تو پنجابی ارے اور پنجابی ڈھگے تو مسیح بن گیا۔خدا نے تجھے ہی ہم کو چھوڑ کر مسیح بنانا تھا اس