تذکرۃ المہدی — Page 237
تذكرة المهدي 237 اول رافضی کو فورا شناخت کرلیتا ہوں۔یہ بات شدہ شعرہ بادشاہ وقت کے کانوں میں پہنچی۔بادشاہ نے دربار میں شیخ اکبر اور ان صوفی صاحب کو بلوایا اور فرمایا کہ ہمارے دربار میں کوئی رافضی ہو تو بتلاؤ۔ان صوفی صاحب نے سب کو ایک نظر دیکھ کر جو قاضی القضاء تھے جن کے ذمہ عدالت کا اور فتویٰ کا کام سپرد تھا اور وہ بڑے متقی صالح ولی اور عادل اور نیک سمجھے جاتے تھے۔ان کو کہا کہ یہ رافضی | ہے۔بادشاہ اور تمام دربار صوفی صاحب کی یہ بات سن کر حیران و پریشان ہوئے چونکہ وہ قاضی واقعی رافضی تھا اور بظاہر سنت والجماعت تھا رعب میں آگیا جھوٹا بچے کے سامنے کب ٹھر سکتا ہے اقرار کر بیٹھا کہ میں واقعی شیعہ ہوں تقیہ سے سنی تھا کس لئے کہ وہ سمجھ گیا کہ جس نے میرے اندرون حال کو دریافت کر لیا مبادا یہ کوئی ایسی بات کہے کہ جس کا میں جواب نہ دے سکوں۔یا کوئی غضب الہی آجاوے جس کی میں برداشت نہ کر سکوں اقرار ہی کرتے بن آئی اور اقرار کے بعد سب کے روبرو اپنے رفض سے توبہ کی اور سب کو تو بہ کا گواہ کیا اس کے بعد صوفی صاحب نے فرمایا کہ اس کی تو بہ منافقانہ تو یہ ہے اور اس نے جھوٹی تو بہ کی ہے یہ اب بھی رافضی ہے تب وہ قاضی یقینی طور پر جان گیا کہ یہ شخص صوفی ہے شک سچا اور ولی اللہ ہے اب اگر بچی تو بہ نہ کی جاوے گی تو دیکھئے میرا کیا حشر ہو اگر یہ بد دعا کر بیٹھا تو بیڑا غرق ہو جائے گا تب اس قاضی نے کھڑے ہو کر سب کے رو برو کہا کہ در حقیقت میں نے جھوٹی منافقانہ توبہ کی تھی اور میں آزماتا تھا اب میں نے جان لیا کہ یہ ولی اللہ ہیں اور میں جھوٹا ہوں۔اب میں نے بدل اور کچی رفض سے توبہ کی اور خالص دل سے مسلمان اور سچاسنت جماعت ہوتا ہوں تب اس بزرگ نے دیکھ کر کہا کہ ہاں اب یہ سنی ہے۔اور اس وقت یہ شیعہ نہیں رہا۔بادشاہ نے کہا تم کیونکر اور کس صورت سے رافضی کو پہچان لیتے ہو۔ان صوفی صاحب نے کہا کہ مجھے خدا نے باطنی آنکھ عطا کی ہے۔اس آنکھ سے انسان کی اندرونی روحانی حالت کو دیکھ لیتا ہوں کہ جو اس کی اصلی صورت ہوتی ہے۔