تذکرۃ المہدی — Page 231
تذكرة المهدى 231 کے۔رہی نزول کی حدیثیں ان میں کہیں نزول من السماء نہیں ہے نزول سے حیات کو کیا تعلق جب حیات و رفع الی السماء ہی ثابت نہیں تو پھر کیسا نزول نزیل مسافر کو بھی کہتے ہیں جیسا میں نے اب دہلی میں نزول کیا۔ممکن ہے کہ مسیح موعود کا نزول دمشق میں ہو جاوے یا اس کے علم کی اشاعت ہو جاوے یا اس کی طرف سے اس کا کوئی جانشین نزول کرے۔اور دمشق سے مراد دمشق نہ ہو کوئی اور شہر ہو۔(بے شک ومشق دہلی ہی ہے) یہ سب حدیثیں مسیح کے نزول کے بارے میں کشفی ہیں اور کشف رویا تعبیر طلب ہے۔(نوٹ حضرت امام غزالی کیمیائے سعادت میں لکھتے ہیں کہ کشف میں تعبیر ضرور ہوتی ہے کس لئے کہ ایک پہلوان واقعات کا جو کشف میں دکھایا جاتا ہے۔مخفی ہوتا ہے پھر ایک جملہ بڑا ہی لطیف لکھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ مردوں کے چوتڑوں میں چھالے پڑ گئے۔اور نامردوں کے پیروں کے چھالے پڑ گئے۔مطلب اس جملہ کا یہ ہے کہ باخدا اپنے جائے نشست پر دور دراز کے واقعات اور ماضی و مستقبل کے حالات بیٹھے ہوئے دیکھ لیتے ہیں اور نامرد چل پھر کر وہ نہیں دیکھ سکتے۔اور ان کی حقیقت کو نہیں پہنچتے ہیں جیسا کہ آگے بیان ہو گا انشاء اللہ تعالی) اور وہ مسیح کیونکر اس امت میں آسکتے ہیں وہ مختص الزمان اور مختص القوم رسول تھے اور آنحضرت ا کافتہ للناس عام رسول تھے۔ابھی آپ کی تقریر ختم نہ ہوئی کہ مولوی محمد بشیر گھبرا کر بول اٹھے کہ آپ اجازت دیں تو میں اس دالان کے پرلے کو نہ میں بیٹھوں اور وہاں کچھ لکھوں حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ بہت اچھا آپ جہاں چاہیں بیٹھیں پس مولوی صاحب پر لے کونے میں جابیٹھے۔اور مجدد علی خان سے مضمون لکھوانے لگے۔حضرت اقدس علیہ الصلوۃ السلام نے فرمایا کہ شرط اس بات پر ٹھری تھی کہ قریب بیٹھ کر خود اپنے اپنے قلم سے اسی وقت سوال وجواب کے طور پر لکھیں گے لیکن مولوی صاحب