تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 230 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 230

تذكرة المهدي 230 حضرت اقدس علیہ السلام نے مولوی محمد بشیر اور ان کے ہمراہیوں سے مخاطب ہو کر فرمایا : مولوی صاحب مجھے اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ میرا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا کچا ہے جیسا کہ اور انبیاء کا دعویٰ نبوت در سالت سچا ہو تا تھا اس دعوے کی بنا یہ ہے کہ کئی ماہ تک مجھے متواتر الہام ہوتے رہے کہ مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہو گئے اور جس مسیح موعود کا آنا مقدر تھا وہ تو ہے مجھ کو الہام سے کشف سے رویا سے بتواتر جتلایا گیا سمجھایا گیا تب بھی میں اس کو یقینی نہیں سمجھا لیکن کئی ماہ کے بعد جب یہ امر تو اتر اور پورے یقین اور حق الیقین کے مرتبہ تک پہنچ گیا تو میں نے قرآن شریف کھولا اور خیال کیا کہ اس اپنے الہام وغیرہ کو کتاب اللہ پر عرض کرنا چاہئے قرآن شریف کھولتے ہی سورہ مائدہ کی آیت فَلَمَّا تُوَ فَيْتَنِی نکل آئی میں نے اس پر غور و فکر کیا تو اپنے الہامات اور کشوف و رویا کو صحیح پایا اور مجھے پر کھل گیا اور ثابت ہو گیا کہ بے شک مسیح ابن مریم علیہ السلام فوت ہو گئے پھر میں نے اول سے آخر تک قرآن شریف کو خوب تدبر اور غور سے پڑھا تو سوائے وفات مسیح کے حیات کا پتہ مسیح علیہ السلام کی نسبت کچھ نہ نکلا۔پھر میں نے صحیح بخاری کھولی خدا کی قدرت کھولتے ہی کتاب التفسیر میں یہ دو آیتیں ایک إِنِّي مُتَوَفِّيْك اور دوسری فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی نکل آئیں ایک کا ترجمہ نمیشک ابن عباس ال سے اور دوسری کا ترجمہ خود آنحضرت ا سے موجود تھا گویا بخاری نے دونوں آیتوں کو جو دو مختلف مقام پر ہیں ایک جگہ جمع کر کے اپنا مذ ہب ظاہر کر دیا کہ ان دونوں آیتوں سے مسیح کی موت ثابت ہے اور کچھ نہیں پھر تمام صحیح بخاری کو اول سے آخر تک ایک ایک لفظ کر کے پڑھا اس میں بھی سوائے موت کے حیات کا کوئی لفظ اشارہ یا کنا ینہ نہ نکلا پھر میں نے صحیح مسلم وغیرہ کل کتب احادیث لفظا دیکھیں اور خوب غور سے ایک ایک سطر اور ایک ایک حرف پڑھا لیکن کہیں بھی مسیح کی حیات نہ نکلی سوائے موت