تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 232 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 232

تذكرة المهدى 232 حصہ اول دور جاکر کسی اور سے لکھوانے لگے میں نے عرض کیا کہ میں مولوی صاحب سے کہہ دوں۔آپ نے فرمایا خیر جانے دو۔اور لکھنے دو۔یا لکھوانے دو حضرت محترم ملک رب ذوالمنن مولانا مولوی سید محمد احسن صاحب فاضل امروہی کا خط بھوپال سے حضرت اقدس علیہ السلام کے نام اسی روز آیا اس میں من جملہ اور باتوں کے یہ بھی لکھا تھا کہ مولوی محمد بشیر چھ مہینے سے مضمون لکھ رہے ہیں۔ان کی کل کمائی بس یہی ہے۔جو وہ لکھ کر لائے ہیں اور مصالحہ ان کے پاس نہیں ہے۔در حقیقت یہ حضرت فاضل امرد ہی نے سچ لکھا تھا۔اور یہ سچ ہوں معلوم ہوا کہ مولوی محمد بشیر صاحب نے جو مضمون مجدد علی خان سے لکھوانا شروع کیا وہ لکھا ہوا تھا۔اور شرط یہ تھی کہ کوئی اپنا پہلا مضمون نہ لکھا جائے گا۔بلکہ جو کچھ لکھتا ہو گا وہ اسی وقت جلسہ میں بالمواجہ لکھنا ہو گا۔مولوی عبد الکریم صاحب نے کہا کہ یہ تو خلاف شرط کیا ہے میں نے عرض کیا کہ حضور اجازت دیں تو میں مولوی صاحب سے کہدوں کہ لکھا ہوا تو آپ لائے ہی ہیں یہی دے دیجئے تاکہ اس کا جواب لکھا جائے حضرت اقدس نے بکراہت اجازت دیدی میں نے کھڑے ہو کر کہا کہ مولوی صاحب لکھے ہوئے مضمون کی نقل کرانے کی کیا ضرورت ہے دیر ہوتی ہے لکھا ہوا مضمون دے دیجئے تاکہ جلد جواب ادھر سے لکھا جائے مولوی صاحب میری اس بات کو سن کر بھونچکا سے رہ گئے اور لڑکھڑائی ہوئی زبان سے کہا کہ نہیں نہیں میں تو لکھ کر نہیں لایا۔صرف نوٹ تھے ان کو مشرح و مفصل لکھوا رہا ہوں میں نے پھر اس کے جواب میں کچھ کہنا چاہا تو حضرت اقدس نے روک دیا۔اور فرمایا جو عمد آ جھوٹ بول رہا ہے وہ کب ماننے لگا ہے مجھے تعجب ہوتا ہے کہ مولوی ہو کر جھوٹ بولنا اور پھر مامور الہی کے مقابلہ پر بحث کے لئے کھڑے ہو جانا۔یہ ان کے ایمان کا نمونہ ہے۔اور پھر تعجب اور بلکہ افسوس ان لوگوں پر کہ جو جھوٹوں کا ساتھ دیتے ہیں حضرت اقدس علیہ السلام سے اگر کوئی ایسی بات سرزد ہوتی تو مخالف تو خدا جانے کیا کیا اور عمر جاتے تو یقین دھم