تذکرۃ المہدی — Page 228
تذكرة المهدي 228 مه اول والله اعلم نعمانی : ہاں کل دونوں صاحبوں کا مباحثہ ہے۔مولوی صاحب: کچی بات تو یہ ہے کہ مولوی محمد بشیر مولوی ہیں مگر جناب مرزا صاحب کے مقابلہ کے نہیں ہیں۔زمین و آسمان کا فرق ہے مرزا صاحب کی تحریر میں نے دیکھی ہے بڑی زبردست تحریر ہے۔صاحب زادہ صاحب تم ابھی صاحبزادہ ہو مرزا صاحب سے ہرگز ہرگز مباحثہ نہ کر بیٹھنا تم کیا اور مولوی محمد بشیر کیا کوئی عالم آج میرے ذہن میں ان کا مقابل نہیں ہے۔نعمانی : دل میں کہا کہ واقعی بات تو سچ کہتے ہیں ایک زمینی اور کہاں آسمانی بر کے چون مہربانی می کند بہت اچھا مجھے کتابیں عنایت کیجئے۔از زمینی آسمانی می کند مولوی صاحب : کون کون سی کتابیں چاہئیے۔نعمانی : جن کتابوں کے نام حضرت اقدس علیہ السلام نے مجھے لکھ کر دیئے تھے وہ میں نے مولوی صاحب کو بتلا دیئے۔مولوی صاحب نے ایک شخص سے کہا کہ یہ کتابیں سب دے دو پھر مجھے کہا کہ آپ تکلیف نہ کریں میں اپنے آدمی کے ہاتھ آپ کے مکان پر پہنچوا دیتا ہوں۔نعمانی مولوی صاحب کی یہ بات سن کر گھبرایا کہ ان کا آدمی کتابیں لے کر جائے گا تو حضرت اقدس علیہ السلام کے مکان پر جائے گا تو یہ بھید کھل جائے گا۔میں نے کہا کہ آپ تکلیف نہ کریں ہم دو آدمی ہیں کتابیں لے جائیں گے اور راستہ میں سے ایک مزدور کرلیں گے۔مولوی صاحب : اچھا آپ کو اختیار ہے۔پس ہم دونوں بمشکل تمام کتابیں لے کر چلے راہ میں قلی چار پیسے دیکر لیا۔جب وہ کتابیں حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں پیش کر دیں تو حضرت