تذکرۃ المہدی — Page 227
تذكرة المحمدي 227 والسلام - الراقم - حاجی علیم اللہ عرف حاجی احمد جان نقشبندی - دیلی ترا با بهرام خان کو چہ سعد اللہ خان"۔ہم دونوں اس رقعہ کو خوش خوش لے کر چلے اور مولوی صاحب کے مکان پر پہنچے دیکھا تو ایک عظیم الشان کتب خانہ ہے الماریاں صندوق - طاق فرش زمین سے چھت تک مکان بھرا پڑا ہے اور کچھ لوگ اور بھی کتابیں لے رہے ہیں اور مولوی صاحب عشاء کی نماز ادا کر کے وظیفہ پڑھ رہے ہیں۔نعمانی : السلام علیکم مولوی صاحب وعلیکم السلام- کہ کر اشارہ سے کہا کہ بیٹھ جائیے۔نعمانی۔ہم دونوں بیٹھ گئے۔مولوی صاحب : اشارہ سے تھوڑا ساوظیفہ ہے اس کو ختم کرلوں۔نعمانی دل میں خوف اور دھڑ کا پیدا تھا کہ مبادا ایسے آدمی بھی آجا ئیں جو ہم کو پہچان لیں اور غل مچادیں کہ یہ تو مرزائی ہیں اور اس پر کتابیں نہ ملیں۔مولوی صاحب کا خدا خدا کر کے وظیفہ ختم ہوا۔نعمانی۔جھٹ پٹ وہ رقعہ حاجی صاحب کا دیا۔مولوی صاحب حاجی صاحب کا رقعہ پڑھ کر آپ کب سے صاحبزاہ صاحب تشریف لائے آپ کے والد اور دادا رحمتہ اللہ علیما تو اکثر دہلی میں تشریف رکھا کرتے تھے آپ تو دہلی میں کم آتے ہیں۔نعمانی : دو چار روز سے دہلی میں آیا ہوں۔مولوی صاحب کیا آپ کو بھی بحث مباحثہ کا شوق ہے۔نعمانی : ہاں خوب شوق ہے۔مولوی صاحب مرزا صاحب بھی تو قادیان سے آئے ہوئے ہیں کل کو مرزا صاحب اور مولوی محمد بشیر میں مباحثہ ہے۔شاید مولوی سلیم الدین خان صاحب اس وقت یہ سمجھے کہ یہ (یعنی راقم) بھی مرزا صاحب کے خلاف بحث کرے گا۔