تذکرۃ المہدی — Page 200
تذكرة المهدى 200 لکھا ہے کہ ان کی کتابیں پڑھنے والے خوب جانتے ہیں مگر انہوں نے صدی کو نہیں پایا بجائے دعوئی مجددیت کے اپنی عزت و ثروت اور نوابی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے حضرت فاضل امروہی دام فیفہ ان کی قوت بازو اور مدد گار تھے بعض کتابیں جو دو سروں کی غیر مشہور تھیں کاٹ تراش کر اور مقدم و موخر مضامین کر کے اپنے نام سے مشہور کر دیں۔حضرت اقدس علیہ السلام نے براہین احمدیہ لکھی تو ایک جلد نواب صاحب کے پاس بھی بھیج دی نواب صاحب نے کتاب چاک کر کے واپس بھیج دی۔اور کہا کہ ہم کو ایسی کتابوں کی کوئی ضرورت نہیں ان کتابوں کے پاس رکھنے سے گورنمنٹ برطانیہ کی ناراضگی ہے حضرت اقدس علیہ السلام نے ایک مضمون جو براہین احمدیہ کے پرچہ منظمہ میں لکھا ہے وہ انہیں کی نسبت ہے اس میں ایک جملہ ایسا حضرت اقدس علیہ السلام نے لکھا ہے کہ : بظاہر تو علم پر دلالت کرتا ہے مگر جو دیکھا جاوے تو نواب صاحب کی بے عزتی اور تباہی اور امراض ملکہ کی خبر دے رہا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ گورنمنٹ آپ پر مہربان رہے اصل الفاظ حضرت صاحب کے ذیل میں درج ہیں۔تھوڑا عرصہ گزرا ہے کہ اس خاکسار نے ایک نواب صاحب کی خدمت میں کہ جو بہت پار سا طبع اور متقی اور فضائل علمیہ سے متصف اور قال اللہ اور قال الرسول سے بدرجہ نمایت خبر رکھتے ہیں کتاب براہین احمدیہ کی اعانت کیلئے لکھا تھا سو اگر نواب صاحب ممدوح اس کے جواب میں یہ لکھتے کہ ہماری رائے میں کتاب ایسی عمدہ نہیں جس کیلئے کچھ مدد کی جائے تو کچھ جائے افسوس نہ تھا مگر صاحب موصوف نے پہلے تو یہ لکھا کہ پندرہ میں کتابیں ضرور خریدیں گے اور پھر دوبارہ یاد دہانی پر یہ جواب آیا کہ دینی مباحثات کی کتابوں کا خریدنا یا ان میں مدد دیتا خلاف منشا گورنمنٹ انگریزی ہے۔اس لئے اس ریاست سے خرید وغیرہ کی کچھ امید نہ رکھیں سو ہم بھی نواب صاحب کو امید