تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 199 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 199

تذكرة المهدى 199 اول ان کو بحفاظت تمام پہنچا دو اس نے کہا کہ کسی پر مجھ کو اطمینان نہیں ہے میرے ساتھ صاحبزادہ سراج الحق صاحب کو جو میرے ہموطن بھی ہیں اور جناب میر ناصر نواب ماسب کو بھیج دو ان پر مجھے اطمینان ہے پس حضرت اقدس علیہ السلام نے ہم دونوں کو حکم دیا کہ جاؤ ان کو ان کی جائے فرودگاہ پر چھوڑ آؤ پھر ہم دونوں اس کے ساتھ ہوئے اور وہ لرزتا اور کانپتا آگے پیچھے دیکھتا ہوا چلا کہ کوئی اور آکے میری خبر نہ لے لے میں نے اور حضرت میر صاحب نے کہا کہ ڈرو مت ہم تمہارے ساتھ ہیں اب تم کو کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا مگر تم نے بڑا غضب کیا کہ منہ پر ایسے گندے الفاظ بولے اس نے کہا میری غلطی ہوئی اور میں تو رات کو ہی یہاں سے چلا جاؤں گا ہم اس کو اس کی جگہ مسجد میں چھوڑ آئے اور حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ ان کے واسطے کھانا تو بھجوا دو پھر کھانا لے کر گیا اور کھانا کھلا کر واپس آیا اور میں نے کہا کچھ اور ضرورت ہے کہا کہ میرے پاس خرچ نہیں ہے میں نے حضرت اقدس علیہ السلام سے عرض کیا کہ ان کو خرچ کی ضرورت ہے حضرت اقدس علیہ السلام نے جیب سے ہوا نکالا اور چار روپے مجھے وئے کہ دے آؤ میں وہ چار روپیہ لے کر اس مدعی کاذب کے پاس گیا اور روپیہ وئے کہا کہ مرزا صاحب تو بڑے خوبیوں کے آدمی ہیں میرا سلام کہہ دیتا اور یہ کہ دینا کہ میری خطا معاف فرما دیں پس وہ اسی وقت ایک چھوٹا سا بقچہ جو لپٹا ہوا اور میلا تھا اور شاید ایک جوڑا کپڑوں کا وہ بغل میں لے کر چلدیا میں نے بہت کہا اور ٹھہر دکھانے کا تو کوئی فکر ہی نہیں ہے لنگر سے آتا رہے گا اور جس قسم کا کھانا تم کھاؤ گے وہ بھی تیار کرادوں گا اس نے نہ مانا اور چلدیا خدا جانے وہ کہاں جا کر ٹھرا ہو گا اور کہاں گیا ہو گا پھر اس کا کوئی پتہ ہمیں نہیں ملا۔نواب صدیق حسن خان کا حال (۰) ایک شخص مدعی مجددیت نواب صدیق حسن خان مرحوم بھی تھے گو کھلم کھلا دعوئی نہیں کیا لیکن اپنی تحریروں میں اس قسم سے اپنا دعویٰ