تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 123 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 123

تذكرة المهدى 123 سراج الحق صاحب پہلے میں اس بات کا افسوس کرتا ہوں کہ تم مرزا کے پاس کہاں پھنس گئے تمہارے خاندان گھرانے میں کس چیز کی کمی تھی اور میں بحث کو مرزا سے منظور کرتا ہوں لیکن تقریری اور صرف زبانی تحریری مجھ کو ہرگز ہرگز منظور نہیں ہے اور عام جلسہ میں بحث ہوگی اور وفات رحیات مسیح میں کہ یہ فرع ہے بحث نہیں ہوگی بلکہ بحث نزول مسیح میں ہوگی جو اصل ہے کتبہ رشید احمد گنگوہی یہ خط مولوی صاحب کا حضرت اقدس علیہ السلام کو دکھلایا فرمایا خیر شکر ہے۔کہ اتنا تو تمہارے لکھنے سے اقرار کیا کہ مباحثہ کے لئے تیار ہوں کو تقریری سہی درنہ اتنا بھی نہیں کرتے تھے اب اس کے جواب میں یہ لکھ دو کہ مباحثہ میں خلط مبحث کرنا درست نہیں بحث تحریری ہونی چاہئے تاکہ جانبین کو بھی سوائے حاضرین کے پورا پورا حال معلوم ہو جائے اور تحریر میں خلط مبحث نہیں ہوتا اور زبانی تقریر میں ہو جاتا ہے تقریر کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا اور نہ اس کا اثر کسی پر پڑتا ہے اور نہ پورے طور سے یاد رہ سکتی ہے اور تقریر میں ایسا ہونا ممکن ہے کہ ایک بات کہہ کر اور زبان سے نکالکر پھر جانے اور مکر جانے کا موقع مل سکتا ہے اور بعد بحث کے کوئی فیصلہ نہیں ہو سکتا اور ہر ایک کے معقد کچھ کا کچھ بنالیتے ہیں التباس ہو جاتا ہے اور تحریر میں یہ فائدہ ہے کہ اس کہ جس سے حق و باس غلط بات مشہور کرنے کی گنجائش نہیں رہتی ہے اور میں کسی کو کمی بیشی یا آپ جو فرماتے ہیں کہ مباحثہ اصل میں جو نزول مسیح ہے ہونا چاہئے سو اس میں یہ التماس ہے کہ نزول مسیح اصل کیونکر ہے اور وفات وحیات مسیح فرع کس طرح سے ہوئی اصل مسئلہ تو وفات وحیات مسیح ہے اگر حیات مسیح کی ثابت ہو گئی تو نزول بھی ثابت ہو گیا اور جو وفات ہو گئی تو نزول خود بخود باطل ہو گیا جب ایک عمدہ خالی ہو تو دوسرا اس عہدہ پر مامور ہو ہمارے دعوی کی بناہی وفات مسیح پر ہے اگر مسیح کی زندگی ثابت ہو جائے تو ہمارے دعوے میں کلام کرنا فضول ہے