تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 124 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 124

تذكرة المهدى 124 مہربانی فرما کر آپ سوچیں اور مباحثہ کے لئے تیار ہو جا ئیں کہ بہت لوگوں اور نیز مولویوں کی آپ کی طرف نظر لگ رہی ہے حضرت اقدس علیہ السلام نے اس پر دستخط کردئے اور میں نے اپنے نام سے یہ خط مولوی صاحب کے پاس گنگوہ بھیج دیا۔مولوی رشید احمد صاحب نے اس خط کے جواب میں یہ لکھا کہ افسوس ہے مرزا صاحب اصل کو فرع اور فرع کو اصل قرار دیتے ہیں اور مباحثہ بجائے تقریری کے تحریری مباحثہ میں نہیں کرتا اور ہمیں کیا غرض ہے کہ ہم اس مباحثہ میں پڑیں۔یہ خط بھی میں نے حضرت اقدس علیہ الصلوۃ السلام کو سنا دیا آپ نے یہ فرمایا کہ ہمیں افسوس کرنا چاہئے نہ مولوی صاحب کو کیونکہ ہم نے تو ان کے گھر یعنی عقائد میں ہاتھ مارا ہے اور ان کی جائیداد دبالی ہے اور حضرت عیسی علیہ السلام کو جن پر ان کی بڑی بڑی امیدیں وابستہ تھیں اور ان کے آسمان سے اترنے کی آرزو رکھتے تھے مار ڈالا ہے جس کو وہ آسمان میں بٹھائے ہوئے تھے اس کو ہم نے زمین میں دفن کر دیا ہے اور ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے اور بقول ان مولویوں کے اسلام میں رخنہ ڈال دیا ہے اور لوگوں کو گھیر گھار کر اپنی طرف کر لیا ہے جس کا نقصان ہوتا ہے وہی روتا ہے اور چلاتا ہے یہ مولوی۔حامیان دین اور محافظ اسلام کہلا کر اتنا نہیں سمجھتے کہ اگر کوئی ان کی جائداد زبالے اور مکان اور اسباب پر قبضہ کرلے تو یہ لوگ عدالت میں جا کھڑے ہوں اور لڑنے مرنے سے بھی نہ ہیں اور نہ ملیں جب تک کہ عدالت فیصلہ نہ کرے اور اب یہ بہانے بناتے ہیں کہ ہمیں کیا غرض ہے گویا یوں سمجھو کہ ان کو دین اسلام اور ایمان سے کچھ غرض نہیں رہی اور اب یہ حیلہ وبہانہ کرتے ہیں کہ ہمیں کیا غرض ہے اگر ان کے پاس کوئی دلیل نہیں اور ان کے ہاتھ پلے کچھ نہیں ہے اور در حقیقت کچھ نہیں ہے ان کے باطل اعتقاد کا خرمن جل کر راکھ ہو گیا اگر اس بحث میں پڑیں تو ان کی مولویت کو بٹہ لگتا ہے ان کی پیری پر آفت آتی ہے ان کو