تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 122 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 122

تذكرة المهدى 122 کہ یہ الہام ہمارے ہیں اور یہ ہمارے مریدوں کے ہیں) غرض کہ اب آپ کے حق ہے کہ اس بحث میں پڑیں اور مباحثہ کریں اور کسی طرح سے پہلوتہی نہ کریں کس لئے کہ ادھر تو حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کا زور شور سے بیان کرنا وفات کا دلیلوں یعنی نصوص صریحہ قر آنیہ اور عدلیہ سے ثابت کرنا اور علما اور آئمہ سلف کی شہادت پیش کرنا اور پھر مدعی مسیحیت کا کھڑا ہونا اور لوگوں کا رجوع کرنا اور آپ جیسے اور آپ سے بڑھ کر علماء * کے مرید ہونے سے دنیا میں ہل چل مچ رہی ہے اور بحث اصل مسئلہ میں ہونی چاہئے یعنی عیسی علیہ السلام کی حیات دوفات میں بس میں نے یہ خط لکھا اور حضرت اقدس علیہ السلام کو ملاحظہ کرا کے روانہ کر دیا۔اور آپ نے اس پر دستخط کر دیئے اور راقم سراج الحق نعمانی و جمالی سرساوی لکھا گیا مجھے یہ خط مولوی رشید احمد صاحب کو لکھنا اس واسطے ضروری ہوا تھا کہ میں اور مولوی صاحب ہم زلف ہیں اور باوجود اس رشتہ ہم زلف ہونے کے تعارف اور ملاقات بھی تھی اور قصبہ کر سادہ اور قصبہ گنگوہ ضلع سہارنپور میں ہیں اور ان دونوں قصبوں میں پندرہ کوس کا فاصلہ ہے اور ویسے برادرانہ تعلق بھی ہیں اور میری خوشدامن اور سرال کے لوگ ان سے بعض مرید بھی ہیں بس یہ میرا خط مولوی صاحب کے پاس گنگوہ جانا تھا اور مولوی صاحب اور ان کے معتقدین اور شاگردوں میں ایک شور برپا ہو نا تھا اور لوگوں کو ٹال دیتا تو آسان تھا لیکن اس خاکسار کو کیسے ٹالتے اور کیا بات بتاتے بجز اس کے کہ مباحثہ قبول کرتے۔مولوی رشید احمد صاحب نے اس خط کے جواب میں لکھا کہ مخدوم مکرم پیر حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ صاحبزادہ صاحب تم جانتے ہو کہ علما کا رجوع کرنا اور ہمارے ساتھ ہونا غلط نہیں ہے ایک تو حضرت مولانا مولوی نور الدین صاحب ہیں جو ان سے کم نہیں بلکہ اللہ تعالی کے فضل سے بڑھ کر ہیں اور ایسا ہی مولانا مولوی سید محمد احسن صاحب ہیں جنہوں نے رسالہ اعلام الناس چھپوا کر ہمارے دعوے کی تصدیق میں بھیجا ہے حالانکہ ان کی اور ہماری ابھی تک ملاقات بھی نہیں ہوئی ہے اور یہ کیسا عجیب رسالہ ہے کہ اس میں ہمارا مانی انصیر لکھدیا اور اسمیں ہمارا اور مولوی صاحب کا توارد ہو گیا ہے اور دو ایک اور مولویوں کے نام بھی لئے تھے جو مجھے اس وقت یاد نہیں ہیں