تذکرۃ المہدی — Page 104
تذكرة المهدى 104 مه اول السلام عین ایمان کا نشان اور ولایت کا ثبوت ہے اور جس قدر زیادہ کفر کے فتوے لگیں ای قدر زیادہ زیادتی ایمان کی دلیل ہے جیسے زیادہ دشمن ہونا کسی کی عزت وجاہت رعب کا باعث ہے چور وہیں نقب لگاتا ہے جہاں مال اور دولت ہے بھو کے پاس تو چور بھی نہیں جاتا آنحضرت ا ان کی فضیلت اور آپ کا سید مرسلین اور خاتم انسین ہونا اسی معنی کر کے ہے کہ بہ نسبت اور انبیاء کے آپ کے دشمن زیادہ تھے اور زیادہ ہیں تمام نبی اور رسول مختص الزمان اور مختص القوم تھے ان کی ہی قوم اور ان کے زمانہ کے محدود لوگ دشمن ہوئے لیکن حضرت سرور کائنات فخر موجودات تمام عالموں اور کافتہ للناس کے لئے رسول تھے تو تمام دنیا نے آپ کے ساتھ عداوت کی اصحاب رسول حضرت ابو بکر اور حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے ، بخلاف حضرت علی کے زیادہ دشمن ہیں اس واسطے ان کا زیادہ مرتبہ اور فضیلت ہے۔ایک روز حضرت مولانا و بالفضل اولانا مولوی حاجی حافظ نور الدین قریشی فاروقی دام ظله خلیفتہ المسیح والمهدی علیه السلام نے حضرت اقدس علیہ السلام سے فضیلت صحابہ کے بارہ میں عرض کیا تو حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ تو اللہ تعالی کو خبر ہے کہ تعلق باللہ یا انس باللہ کتنا تھا لیکن ہم تو ظاہر کو جانتے ہیں کہ جس نے زیادہ اسلام کی خدمت کی اسی کا مرتبہ زیادہ ہے جتنی مزدوری اتنے دام صحابہ کے کارنامے اور خدمت اسلام دیکھ لو کہ کس نے کس قدر خدمت اسلام کی ہے۔ہر دلعزیز منافق ہوتا ہے ایک روز حضرت اقدس علیہ السلام نے اسی معنی میں ایک حکایت بیان فرمائی۔فرمایا حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ نے سفر کیا اور چند ایک اہل ! ارادت آپ کے ساتھ تھے ایک جنازہ پر بہت لوگوں کا ہجوم دیکھا۔حضرت بایزید نے دریافت فرمایا کہ یہ لوگ اس قدر بکثرت کس لئے جمع ہیں تو لوگوں نے کہا کہ