تذکرۃ المہدی — Page 105
تذكرة المهدى 105 ایک ولی اللہ کا انتقال ہو گیا ہے اس کے جنازہ پر ہر مذہب وملت کے آدمی آئے ہیں حضرت بایزید رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ کس نشان سے معلوم کیا کہ یہ فوت شده ولی اللہ تھا انہوں نے جواب دیا کہ بزرگ متوفی بڑے صلح کل تھے کہ کوئی شخص کسی مذہب کا ہو کسی فریق کا ہو ہندو ہو مسلمان ہو یہودی یا عیسائی ہور ہر یہ ہو آپ سے ناراض نہیں تھا سب خوش تھے اور آپ بھی سب سے راضی تھے کسی کی بھی دل شکنی نہ کرتے تھے تمام فرقوں کے لوگ آپ کے معتقد تھے حضرت بایزید رحمتہ اللہ علیہ نے ان کی یہ بات سن کر فرمایا کہ یہ شخص بڑا ہی منافق تھا۔حضرت بایزید رحمتہ اللہ علیہ کی زبان سے منافق کا لفظ سن کر درہم برہم ہوئے اور طیش میں آکر حضرت بایزید اور ان کے ہمراہیوں کو مارنے کو تیار ہو گئے تو یہ وہاں سے چل دئے حضرت بایزید کے متعقدین نے جو ساتھ تھے پوچھا کہ آپ نے اس متوفی بزرگ کو منافق کیوں فرمایا بایزید نے فرمایا کہ وہ شخص منافق ہوتا ہے جس کو تمام لوگ علی العموم اچھا کہیں اور مخالف کوئی نہ ہو۔وجہ یہ که منافق کے منہ سے حق بات کبھی نہیں نکلتی اسی واسطے تمام لوگ اس سے راضی اور خوش رہتے ہیں کیونکہ اس کو سب کی ہاں میں ہاں اور نا میں نا ملانی پڑتی ہے وہ اگر حق بات منہ سے نکالے تو اس کا سب پر وہ کھل جائے اور معتقد ناراض ہو جائیں اور وجوہ معاش اور آمدنی جس کے واسطے اس نے قریب کیا ہے بند ہو جائے الحق مربہت صحیح ہے اہل اللہ حق بات کہا کرتے ہیں اور کسی کے خوش یا ناخوش ہونے سے ان کو سرد کار نہیں ہو تا منافق اور خدا سے دور پڑا ہوا کبھی بھی کلمتہ الحق زبان پر نہیں لاتا وہ سب کی خوشی اور رضامندی کو مقدم رکھتا ہے اور حق کہنے والے کے دشمن ہو جاتے ہیں انبیاء علیهم السلام اور اولیاء کرام کے حالات پر نظر ڈالو کہ کیسے حق بات کہنے سے دشمن اور خون کے پیاسے ہو گئے حضرت سید عبد القادر جیلانی اور حضرت شیخ احمد سرہندی اور امام غزالی وغیرہ ہم رحمتہ اللہ علیم کے کیسے دشمن ہوئے جان لینے اور بے عزت بے آبرو کرنے