تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 103 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 103

تذكرة المهدي 103 عام لوگ بھی تھے اس وقت سب نے کہا کہ حضرت آپ نے بڑا غضب کیا کہ آپ مرزا سے ملنے گئے (چونکہ ان کو معلوم نہ تھا کہ اس نے حضرت اقدس علیہ السلام سے بیعت کی ہوئی ہے مگر جن کو معلوم تھا ان میں سے اکثر اس مجمع میں نہ تھے۔لیکن الہ دین جلد ساز حاتک لدھیانوی اور عباس علی متوفی لدھیانوی اور نواب اشرف علی خان میرے سے واقف تھے) ان پر اور ان کے مریدوں پر تو کفر کا فتوی ہے میں نے کہا کہ کفر کا فتویٰ لگانے والے کون ہیں۔لوگ : مولوی عالم فاضل ہیں۔سراج : پہلے ان کا ایمان تو ثابت کر لو کہ یہ لوگ مومن اور مسلمان ہیں۔لوگ : یہ کیا بات کہی کیا یہ مسلمان نہیں۔مراج: بے شک نہیں۔لوگ : اس کی کیا وجہ - فرمائیے کہ یہ کیوں مسلمان نہیں۔سراج : جو شخص ایک مرد مومن اور مسلمان شخص کو کافر کہے تو کہنے والا خود کافر ہو جاتا ہے۔لوگ: یہ سچ ہے۔سراج : اب بتلاؤ کہ یہ کافر کہنے والے کافر ہوئے کہ نہیں۔دوسرا جواب یہ ہے کہ مقلد مولویوں نے غیر مقلدوں پر اور غیر مقلدوں نے مقلدوں کو کافر کہا اور فتوے مشتہر ہوئے ان میں کو نسا فرقہ مومن رہا یا دونوں کافر ہوئے۔لوگ : اس سے تو یہ معلوم ہوا کہ ان میں کوئی بھی مومن اور مسلمان نہیں۔سراج : تو اب کافروں کے کہنے سے حضرت اقدس مرزا صاحب کیونکر کافر ہو سکتے ہیں۔اگر گنگا اس دھوتی پر شاد جیون مل سکھ لال آکر اس وقت ہم کو اور تم کو کافر کہیں تو ہم تم ان کے کہنے سے کافر ہو جائیں گے۔لوگ : ہرگز نہیں سراج: مَا هُوَ جَوَابُكُمْ فَهُوَ جَوَابُنَا بات یہ ہے کہ کفر کا فتویٰ لگنا ہی