تذکار مہدی — Page 810
تذکار مهدی ) 810 روایات سید نا محمود علیہ السلام کی زندگی کا آخری سال تھا یا آپ کے بعد خلافت اولی کا کوئی رمضان تھا۔بہر حال موسم کی گرمی کے سبب یا اس لئے کہ میں سحری کے وقت پانی نہ پی سکا تھا۔مجھے ایک روزہ میں شدید پیاس محسوس ہوئی تھی کہ مجھے خوف ہوا کہ میں بے ہوش ہو جاؤں گا اور دن غروب ہونے میں ابھی ایک گھنٹہ باقی تھا۔میں نڈھال ہو کر ایک چارپائی پر گر پڑا اور میں نے کشف میں دیکھا کہ کسی نے میرے منہ میں پان ڈالا ہے میں نے اسے چوسا تو سب پیاس جاتی رہی۔چنانچہ جب وہ حالت جاتی رہی تو میں نے دیکھا کہ پیاس کا نام ونشان بھی نہ باقی رہا تھا۔تو اللہ تعالیٰ نے اس طریق سے میری پیاس بجھا دی اور جب پیاس بجھ جائے تو پانی پینے کی کوئی ضرورت نہیں رہتی۔غرض تو یہ ہوتی ہے کہ ضرورت پوری کر دی جائے خواہ مناسب سامان مہیا کر کے ہو۔خواہ اس سے استغناء کی حالت پیدا کر کے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک شخص نے لکھا کہ دعا کریں فلاں عورت کے ساتھ میرا نکاح ہو جائے آپ نے فرمایا کہ ہم دعا کریں گے مگر نکاح کی کوئی شرط نہیں۔خواہ نکاح ہو جائے خواہ اس سے نفرت پیدا ہو جائے۔آپ نے دعا کی اور چند روز بعد اس نے لکھا کہ میرے دل میں اس سے نفرت پیدا ہوگئی ہے۔اسی طرح مجھے بھی ایک شخص نے ایسا لکھا تھا اور میں نے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سنت میں اسے یہی جواب دیا اور اس نے مجھے بعد میں اطلاع دی کہ اس کے دل سے اس کا خیال جاتا رہا۔پس اللہ تعالیٰ دونوں صورتوں میں مدد کر دیتا ہے۔عظیم الشان ترقی کا نشان خطبات محمود جلد 20 صفحہ 191 تا 192 ) دیکھو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذات میں کتنا عظیم الشان نشان دکھایا ہے گوتم نے اس زمانہ کو نہیں پایا مگر ہم نے اسے پایا اور دیکھا ہے پس اس قدر قریب زمانہ کے نشانات کو اپنے خیال کی آنکھوں سے دیکھنا تمہارے لئے کوئی زیادہ مشکل نہیں اور نشانات جانے دو۔مسجد مبارک کو ہی دیکھو مسجد مبارک میں ایک ستون مغرب سے مشرق کی طرف کھڑا ہے اس کے شمال میں جو حصہ مسجد کا ہے یہ اس زمانہ کی مسجد تھی اور اس میں نماز کے وقت کبھی ایک اور کبھی دوسطریں ہوتی تھیں اس ٹکڑا میں تین دیوار میں ہوتی تھیں ایک تو دو کھڑکیوں والی جگہ میں