تذکار مہدی — Page 811
تذکار مهدی ) 811 روایات سید نامحمود جہاں آج کل پہریدار کھڑا ہوتا ہے۔اس حصہ میں امام کھڑا ہوا کرتا تھا پھر جہاں اب سنتون ہے وہاں ایک اور دیوار تھی اور ایک دروازہ تھا اس حصہ میں صرف دو قطار میں نمازیوں کی کھڑی ہوسکتی تھیں اور فی قطار غالباً پانچ سات آدمی کھڑے ہو سکتے تھے اس حصہ میں اس وقت کبھی ایک قطار نمازیوں کی ہوتی اور کبھی دو ہوتی تھیں۔مجھے یاد ہے جب اس حصہ مسجد سے نمازی بڑھے اور آخری یعنی تیسرے حصہ میں نمازی کھڑے ہوئے تو ہماری حیرت کی کوئی حد نہ رہی تھی۔گویا جب پندرھواں یا سولہواں نمازی آیا تو ہم حیران ہو کر کہنے لگے کہ اب تو بہت لوگ نماز میں آتے ہیں۔تم نے غالبا غور کر کے وہ جگہ نہیں دیکھی ہوگی مگر وہ ابھی تک موجود ہے جاؤ اور دیکھو صحابہ کا طریق تھا کہ وہ پرانی باتوں کو کبھی کبھی عملی رنگ میں قائم کر کے بھی دیکھا کرتے تھے اس لئے تم بھی جا کر دیکھو اس حصہ کو الگ کر دو۔جہاں امام کھڑا ہوتا تھا اور پھر وہاں فرضی دیوار میں قائم کرو اور پھر جو باقی جگہ بچے اس میں جو سطریں ہوں گی ان کا تصور کرو اور اس میں تیسری سطر قائم ہونے پر ہمیں جو حیرت ہوئی کہ کتنی بڑی کامیابی ہے اس کا قیاس کرو اور پھر سوچو کہ خدا تعالیٰ کے فضل جب نازل ہوں تو کیا سے کیا کر دیتے ہیں۔مجھے یاد ہے ہمارا ایک کچا کوٹھا ہوتا تھا اور بچپن میں کبھی کھیلنے کے لئے ہم اس پر چڑھ جایا کرتے تھے۔اس پر چڑھنے کے لئے جن سیڑھیوں پر ہمیں چڑھنا پڑتا تھا وہ مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم کے مکان کے پاس سے چڑھتی تھیں اس وقت ہماری تائی صاحبہ جو بعد میں آکر احمدی بھی ہو گئیں مجھے دیکھ کر کہا کرتی تھیں کہ ” جیہو جیا کاں اور ہو جئی کو کو“ میں بوجہ اس کے کہ میری والدہ ہندوستانی ہیں اور اس وجہ سے بھی کہ بچپن میں زیادہ علم نہیں ہوتا اس پنجابی فقرہ کے معنے نہیں سمجھ سکتا تھا۔چنانچہ ایک دفعہ میں نے اپنی والدہ صاحبہ سے اس کے متعلق پوچھا کہ اس کا کیا مطلب ہے تو انہوں نے فرمایا کہ اس کے معنے یہ ہیں کہ جیسا کو ا ہوتا ہے ویسے ہی اس کے بچے ہوتے ہیں۔کوے سے مراد ( نعوذ باللہ ) تمہارے ابا ہیں اور کوکو سے مراد تم ہو مگر پھر میں نے وہ زمانہ بھی دیکھا ہے کہ وہی تائی صاحبہ اگر میں کبھی ان کے ہاں جاتا تو بہت عزت سے پیش آتیں میرے لئے گدا بچھا تیں اور احترام سے بٹھاتیں اور ادب سے متوجہ ہوتیں۔اور اگر میں کہتا کہ آپ کمزور ہیں ضعیف ہیں ہلیں نہیں یا کوئی تکلف نہ کریں تو وہ کہتیں کہ آپ تو میرے پیر ہیں گویا وہ زمانہ بھی دیکھا جب میں کو کو تھا اور وہ بھی جب میں پیر بنا۔اور ان ساری چیزوں کو دیکھ کر تم