تذکار مہدی — Page 808
تذکار مهدی ) 808 روایات سید نا محمود یادگار رہے اور اب انجمن نے فیصلہ کر دیا ہے اور ایسے لوگوں کے نام لکھے جائیں گے اگر کوئی اسے اسراف سمجھتا ہے تو اسے سوچنا چاہئے کہ کیا اسراف کرنے والوں کے نام اس طرح ہمیشہ کے لئے زندہ رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے اسراف کرنے والا تو چھپاتا ہے مگر مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کو اتنا قیمتی قرار دیا کہ فرمایا ان کے نام لکھے جائیں تا وہ ہمیشہ زندہ رہیں تو پیشگوئی کو پورا کرنا بہت بڑا کام ہے۔( خطبات محمود جلد 11 صفحہ 507) ایک عجیب نظارہ ایک خاص بات میرے دل میں آئی اور معاً ایک نظارہ میری آنکھوں کے سامنے آ گیا اور آنکھوں میں آنسو ڈبڈبا آئے۔خدا کے فضل سے مجھے اس قسم کی طبیعت ملی ہے کہ میں اپنے جذبات کو روک سکتا ہوں مگر اس بات کو دیکھ کر میں بے بس ہو گیا۔اسی خوشی کے موقع پر مجھے حضرت عائشہ کا ایک واقعہ یاد آ گیا۔لکھا ہے کہ ایک دفعہ میدے کی روٹی حضرت عائشہ کے سامنے آئی تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔جب پوچھا گیا کہ آپ کیوں روتی ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں جو کی روٹی کھاتے تھے اور چکیاں اور چھلنیاں اس وقت نہ تھیں۔جو کی روٹی بے چھنے آٹے کی ہم پکا کر آپ کے سامنے رکھ دیتے اور آپ کھا لیتے۔اب اس میدہ کی روٹی کو دیکھ کر اور اس حالت کو یاد کر کے یہ میرے گلے میں پھنستی ہے۔مجھے بھی یہ نظارہ دیکھ کر ایک بڑا نظارہ یاد آ گیا۔وہ وقت جب مینارہ کے بنانے کا سوال در پیش تھا اس پر میری نظر آج سے بیس سال پیچھے جا پڑی۔چھوٹی مسجد جس میں اس وقت چند آدمی بیٹھ سکتے تھے وہاں حضرت صاحب بیٹھے تھے مینارہ کے بنانے کی تجویز در پیش تھی اور دس ہزار کا حضرت صاحب نے تخمینہ لگایا تھا تا کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو پیشگوئی کی تھی وہ اپنے ظاہری لفظوں کے لحاظ سے بھی پوری کر دی جائے۔اب سوال یہ تھا کہ دس ہزار روپیہ کہاں سے آئے کیونکہ اس وقت جماعت کی حالت زیادہ کمزور تھی۔اس کے لئے دس ہزار کو سوسو روپیہ کے حصوں پر تقسیم کیا گیا اور اس فہرست کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے ایسے لوگوں پر بھی سو روپیہ لگایا گیا جن کی حیثیت سورو پیدا دا کرنے کی نہ تھی اور اس وقت گویا دس ہزار روپیہ کا جمع کرنا ایک امر محال تھا۔اس وقت بعض لوگوں نے اپنی حالت اور حیثیت سے بڑھ کر چندہ دیا۔چنانچہ منشی شادی خان صاحب پر بھی سو روپیہ غالبا لگا تھا۔انہوں نے اپنا تمام ا