تذکار مہدی — Page 807
تذکار مهدی ) 807 روایات سید نا محمودی جواب یہ دیتے ہیں کہ اس زمانہ کے بُرے اور حرام کا رلوگ مجھ سے نشان طلب کرتے ہیں۔مگر وہ یا درکھیں کہ انہیں یونس نبی کے نشان کے سوا اور کوئی نشان نہیں دیا جائے گا۔یعنی اب تمہارے لئے یہی معجزہ ہوگا کہ تم میرے قتل کی تدبیریں کرو گے۔مجھے صلیب پر لٹکا کر مجھے ملعون ثابت کرنا چاہو گے۔مگر میرا خدا مجھے صلیب سے بچالے گا اور جس طرح یونس مچھلی کے پیٹ میں سے زندہ نکلا اسی طرح میں بھی صلیب پر سے زندہ اتروں گا اور یہی تمہارے لئے معجزہ ہوگا اس کے سوا اور کوئی نشان تمہیں نہیں دکھایا جائے گا۔اگر واقع میں وہ اندھوں کو ظاہری آنکھیں دے دیا کرتے تھے۔کوڑھیوں کو اچھا کر دیتے تھے، لولوں اور لنگڑوں پر ہاتھ پھیر تے اور وہ اچھے ہو جاتے تھے تو وہ ہزاروں آدمیوں کو اپنے معجزات کے ثبوت میں پیش کر سکتے تھے اور کہہ سکتے تھے کہ اتنے ہزار اندھوں کو میں نے بینا بنایا۔اتنے ہزار لولوں کو میں نے تندرست کیا۔اتنے ہزار لنگڑوں کو میں نے اچھا کر کے کام کے قابل بنایا۔منارة المسیح کی عظمت الفضل 31 اگست 1938 ء جلد 26 نمبر 200 ) اسی طرح اس مینارہ پر اعتراض کرتے ہیں۔اس پر جو روپیہ خرچ ہوا اس کا مقصد ایک عظیم الشان پیشگوئی کو پورا کرنا تھا۔مجھے افسوس آتا ہے کہ اسے ہم اور زیادہ بلند نہ کر سکے اسے تو اتنا بلند ہونا چاہئے تھے کہ دنیا میں اس کی نظیر نہ ہوتی۔یہ سوفٹ ہے فرانس میں ایک مینارہ سات سوفٹ کا ہے اور خواہش تھی کہ یہ ہزار فٹ کا ہوتا اور کیا تعجب ہے کہ آئندہ نسلیں اس کی بنیاد کو قائم رکھتے ہوئے اسے ایک ہزار فٹ ہی بلند کر دیں۔تو یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کو پورا کرنے کے لئے بنایا گیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بڑے مزے لے لے کر کہا کرتے تھے کہ کیا ہی لطف آئے گا جب اسٹیشن سے ہی روشنی دیکھ کر ہر کوئی کہہ اٹھے گا کہ وہ مینارہ ہے۔تو اس روپیہ کی ہستی کیا ہے ہمارے تو اگر اختیار میں ہوتا تو ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کو پورا کرنے کے لئے اسے اتنا بلند کرتے کہ جالندھر اور لاہور سے دکھائی دیتا تو پیشگوئی کو پورا کرنا بہت بڑی بات ہے اور یہ اٹھارہ ہزار روپیہ صرف پیشگوئی کو پورا کرنے کے لئے ہی صرف کیا گیا ہے اور مسیح موعود علیہ السلام نے اسے اتنی اہمیت دی ہے کہ اس میں صرف وہی لوگ حصہ لیں جو سو روپیہ چندہ دے سکیں اور اس پر ان کے نام لکھے جائیں تا ہمیشہ ان کی