تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 772 of 862

تذکار مہدی — Page 772

تذکار مهدی ) Ⓒ772> روایات سید نامحمودی کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے۔میں نے سنا ہے آپ کہتے ہیں حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔آپ نے فرمایا ہاں۔وہ کہنے لگے میں تو سمجھتا تھا آپ نے قرآن کے خلاف کوئی بات نہیں کہی ہوگی اور مولوی محمد حسین بٹالوی یونہی کسی غلط فہمی کے ماتحت آپ کے دشمن ہوگئے ہیں۔مگر اب معلوم ہوا کہ آپ نے واقعہ میں قرآن کے خلاف عقیدہ اختیار کر لیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا یہ قرآن کے خلاف عقیدہ نہیں بلکہ اس کے عین مطابق ہے۔وہ کہنے لگے اگر قرآن سے یہی ثابت ہو جائے کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں تو کیا آپ اپنا یہ عقیدہ ترک کر دیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کیوں نہیں اگر قرآن سے یہ ثابت ہو جائے کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں۔تو میں انہیں زندہ ماننے لگ جاؤں گا۔انہوں نے کہا میں پہلے ہی کہتا تھا کہ مرزا صاحب بڑے نیک آدمی ہیں۔وہ قرآن کے خلاف عمداً کوئی بات نہیں کہہ سکتے۔انہیں ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔اچھا آپ بتائیں۔اگر میں قرآن کریم سے سوایسی آیتیں نکال کر لے آؤں۔جن سے حضرت عیسی علیہ السلام کی حیات ثابت ہوتی ہو تو کیا آپ مان لیں گے۔وہ چونکہ مولویوں سے یہ سنا کرتے تھے کہ سارا قرآن حضرت عیسی علیہ السلام کی حیات کے ذکر سے بھرا ہوا ہے۔اس لئے انہوں نے سمجھا کہ سو آمیتیں تو ایسی ضرور ہوں گی جن سے ان کی زندگی ثابت ہوتی ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمانے لگے۔سو چھوڑ آپ ایک آیت ہی ایسی لے آئیں۔تو میرے لئے وہی کافی ہے اور میں حضرت مسیح کی وفات کا عقیدہ ترک کر دوں گا۔وہ کہنے لگے اچھا سو نہ سہی پچاس تو میں ضرور لے آؤں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا میں تو کہہ چکا ہوں کہ ایک آیت بھی کافی ہے۔سو پچاس کی شرط کی ضرورت ہی کیا ہے۔وہ کہنے لگے۔اچھا تو دس آیتیں تو میں ضرور ہی لے آؤں گا۔میں پہلے ہی کہتا تھا کہ مرزا صاحب قرآن کے عاشق ہیں۔وہ قرآن کے خلاف کوئی بات مان ہی نہیں سکتے۔ضرور انہیں کوئی غلطی لگی ہے۔اب یہاں آکر میرے اس خیال کی تصدیق ہوگئی ہے۔اچھا اب میں جاتا ہوں اور دس آمیتیں ایسی لکھوا کر آپ کے پاس لاتا ہوں۔جن سے حضرت مسیح ناصری کی حیات ثابت ہوتی ہے۔چنانچہ وہ لاہور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سے ملنے گئے۔مولوی صاحب اس وقت مسجد میں بیٹھے ہوئے بڑے زور شور سے لافیں مار رہے تھے کہ میں نے نورالدین کو ایسی پٹھنیاں دیں۔وہ حدیث کی طرف آتا ہی نہیں تھا۔مگر میں نے اسے اس قدر پٹھنیاں دیں کہ آخر وہ حدیث کی طرف آنے پر مجبور ہو گیا۔دراصل بات یہ ہوئی