تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 773 of 862

تذکار مہدی — Page 773

تذکار مهدی ) 773 روایات سید نا محمود کہ لمبی بحث سے تنگ آکر حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے یہ تسلیم کر لیا تھا کہ اچھا قرآن کے علاوہ بخاری سے بھی تائیدی رنگ میں حدیثیں پیش کی جاسکتی ہیں۔بس اس پر وہ بے حد خوش تھے اور بار بار کہتے تھے کہ میں نے نورالدین کو خوب پکڑا۔اتفاقاً یہ ہوا کہ ادھر وہ یہ باتیں کر رہے تھے اور ادھر یہ حاجی صاحب جا نکلے اور کہنے لگے۔بس اب اس بحث مباحثہ کو ایک طرف رکھیں اور میری بات سنیں میں قادیان گیا تھا اور میں حضرت مرزا صاحب کو منوا آیا ہوں کہ اگر قرآن میں سے دس ایسی آیتیں نکال کر لے آؤں۔جن سے حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی ثابت ہوتی ہو تو وہ اپنے پہلے عقیدہ کو ترک کردیں گے بلکہ میں ان سے یہ بھی منوا آیا ہوں کہ وہ لاہور کی شاہی مسجد میں آکرسب کےسامنے توبہ کریں گے اور واقعہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کا بھی اقرار کر لیا تھا۔ان کا منشا یہ تھا کہ تو بہ ایسی جگہ ہو کہ سب کو معلوم ہو جائے اور یہ فتنہ جو اٹھا ہوا ہے دب جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔جہاں آپ کہیں گے۔وہیں میں تو بہ کرنے کے لئے تیار ہوں۔آپ پہلے دس آیتیں تو لے آئیں غرض انہوں نے جاتے ہی کہا کہ میں مرزا صاحب سے سب کچھ منوا کر آیا ہوں۔آپ اس جھگڑے کو چھوڑیئے اور مجھے فوراً دس آیتیں لکھ دیجئے تا کہ میں مرزا صاحب کو تو بہ کرانے کے لئے یہاں لا سکوں۔اس وقت چونکہ مولوی صاحب سخت جوش کی حالت اور بڑے فخر سے کہہ رہے تھے کہ میں نے نورالدین کو یوں پٹخنیاں دیں۔میں نے اسے گردن سے اس طرح پکڑا۔انہوں نے جب یہ بات سنی تو ان کے تن بدن میں آگ لگ گئی اور غصہ سے کہنے لگے تجھ جاہل کو کس نے کہا تھا کہ تم مرزا صاحب کے پاس جاتے۔میں دو مہینے سے جھگڑ جھگڑ کر نورالدین کو حدیث کی طرف لایا تھا تو پھر بحث کو قرآن کی طرف لے گیا۔وہ آدمی تھے نیک انہیں یہ فقرہ کھا ہی گیا۔وہ سادگی سے یہ سمجھتے تھے کہ قرآن سے حیات مسیح ثابت ہے اور وہ اسی امید میں خیالی پلاؤ پکار ہے تھے اور خیال کرتے تھے کہ جہاں سارے ہندوستان کے مولوی ناکام رہے ہیں۔وہاں میں ضرور کامیاب ہو جاؤں گا اور مرزا صاحب سے تو بہ کراؤں گا۔پس انہوں نے جو نہی یہ فقرہ سنا کہ میں دو مہینے بحث کر کر کے نورالدین کو حدیث کی طرف لایا تھا۔تو پھر بحث کو قرآن کی طرف لے گیا تو تھوڑی دیر تو حیرت اور استعجاب سے خاموش بیٹھے رہے۔پھر اٹھے اور مولوی صاحب سے مخاطب ہوکر کہا کہ اچھا مولوی صاحب جدھر قرآن ادھر ہی ہم اور یہ کہہ کر مجلس سے چلے گئے۔