تذکار مہدی — Page 771
تذکار مهدی ) 771 روایات سید نا محمودی میں نے بہت دفعہ پڑھایا بھی ہے۔آپ نے جب دیکھا کہ ان صاحب کو جمعہ پڑھانے کی بہت خواہش ہے تو فرمایا کہ اچھا آج جمعہ ہو جائے۔تو میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سفر کے موقع پر جمعہ پڑھتے بھی دیکھا ہے اور چھوڑتے بھی اور جب سفر میں جمعہ پڑھا جائے۔تو میں پہلی سنتیں پڑھا کرتا ہوں اور میری رائے یہی ہے کہ وہ پڑھنی چاہئیں کیونکہ وہ عام سنتن سے مختلف ہیں اور وہ جمعہ کے احترام الفضل 24 جنوری 1942 ء جلد 30 نمبر 21 صفحہ 1) کے طور پر ہیں۔جدھر قرآن ادھر ہی ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک شخص تھے وہ تھے تو ان پڑھ مگر انہوں نے دس بارہ حج کیئے ہوئے تھے۔اس زمانہ میں حج کرنا بہت مشکل تھا کیونکہ بعض علاقوں میں ریل گاڑی نہیں تھی اور کئی جگہ پیدل جانا پڑتا تھا۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دوست تھے اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب دعویٰ کیا کہ حضرت مسیح ناصری فوت ہو چکے ہیں اور اپنی مسیحیت کا بھی اعلان کیا تو تمام ہندوستان میں ایک شور مچ گیا۔ان دنوں لاہور میں حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ جموں سے رخصت لے کر آئے ہوئے تھے۔مولوی محمد حسین بٹالوی بھی وہاں جا پہنچے اور انہوں نے آپ کو مباحثہ کا چیلنج دے دیا اور کہا کہ صرف حدیثوں سے وفات مسیح کے مسئلہ پر بحث ہونی چاہیئے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ فرماتے کہ حدیث حاکم نہیں بلکہ قرآن حاکم ہے۔پس ہمیں اس معاملہ میں قرآن کریم کی آیات سے فیصلہ کرنا چاہیئے۔اس پر کئی دن بحث ہوتی رہی اور ایک دوسرے کی طرف سے اشتہارات بھی نکلتے رہے۔وہ چونکہ دونوں کے دوست تھے۔اس لئے انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس جھگڑے کو نپٹانا چاہئے۔انہوں نے اپنے دل میں یہ سمجھا کہ مرزا صاحب نیک آدمی ہیں۔انہوں نے کوئی ایسی بات کہی ہوگی جسے مولوی محمد حسین بٹالوی سمجھے نہیں اور چونکہ ان کی طبیعت میں غصہ زیادہ ہے۔اس لئے وہ جوش میں آکر مخالفت پر آمادہ ہو گئے ہوں گے۔ورنہ یہ نہیں ہو سکتا کہ مرزا صاحب قرآن کریم کے خلاف کوئی بات کہیں اور ان پر کفر کے فتوے لگانے کی ضرورت پیش آجائے۔یہ مخالفت ضرور کسی غلط فہمی کا نتیجہ ہے اور میرا فرض ہے کہ میں اس کو دور کروں چنانچہ وہ بڑے جوش سے قادیان آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام