تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 763 of 862

تذکار مہدی — Page 763

تذکار مهدی ) 763 روایات سید نا محمود رنگ پھینکے تو سارے لوگ یہی کہیں گے فلاں نے خوشی منائی ہے۔لیکن اگر کوئی دوسرے پر پیشاب پھینک دے تو چونکہ اِس کا ہندوؤں میں رواج نہیں اور نہ اُن کے مذہب میں یہ بات داخل ہے اس لئے وہ اسے بُرا منائیں گے اور اسے خوشی نہیں کہیں گے۔اسلام اس بات کا قائل نہیں کہ مومن ہمیشہ روتا رہے۔ہنسی اور مذاق کرنا جائز ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی مذاق کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام بھی مذاق کر لیتے تھے۔ہم بھی مذاق کر لیتے ہیں ہم یہ نہیں کہتے کہ ہم مذاق نہیں کرتے۔ہم سو دفعہ مذاق کرتے ہیں۔لیکن اپنے بچوں سے کرتے ہیں اپنی بیویوں سے کرتے ہیں لیکن اس طرح نہیں کہ اس میں کسی کی تحقیر کا رنگ ہو۔اگر منہ سے ایسا کلمہ نکل جائے جس میں تحقیر کا رنگ پایا جاتا ہو تو ہم استغفار کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم سے غلطی ہوئی۔پس پرسوں جو کچھ ہوا میں اسے اس لحاظ سے برانہیں منا تا کہ ہنسنا کھیلنا جائز نہیں۔تم بے شک ہنسو اور کھیلو لیکن بازی بازی باریش بابا ہم بازی۔کھیل کھیل ہے تو ٹھیک ہے۔لیکن اگر باپ کی داڑھی سے بھی کھیلا جائے تو یہ جائز نہیں۔خدا تعالیٰ کا مقام خدا تعالیٰ کو دو۔فٹ بال کا مقام فٹ بال کو دو۔مشاعرے کا مقام مشاعرے کو دو اور پیشگوئیوں کا مقام پیشگوئیوں کو دو اگر تمہیں کھیل اور تمسخر کا شوق ہو تو لاہور جاؤ اور مشاعروں میں جا کر شامل ہو جاؤ۔اگر تم لاہور جا کر ایسا کرو گے تو لوگ کہیں گے لاہور والوں نے ایسا کیا۔یہ نہیں کہیں گے احمدیوں نے ایسا کیا لیکن یہاں اس کا دسواں حصہ بھی کرو گے۔تو لوگ کہیں گے۔احمدیوں نے ایسا کیا۔پس میں تمہیں بنی سے نہیں روکتا۔میں یہ کہتا ہوں کہ ہنسی میں اس حد تک نہ بڑھو۔جس میں جماعت کی بدنامی ہو۔الفضل 12 / مارچ 1952 ء جلد 40/6 نمبر 62 صفحہ 4) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں مشاعرہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں کچھ نو جوانوں نے جن میں میں بھی شامل تھا۔ایک مشاعرہ کیا اس میں جتنی نظمیں پڑھی گئیں وہ سب سلسلہ کے متعلق ہی تھیں اور اسلام کی ہی تائید میں سارے شعر کہے گئے تھے۔مگر پھر بھی اس وقت کی صدر انجمن احمد یہ نے یا اس کے بعض کارکنوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس کے خلاف رپورٹ کی اور آپ نے آئندہ کے لئے مشاعرہ بند کر دیا۔میری عمر اس وقت چھوٹی تھی اور اپنی عمر اور بچپن کے جوشوں کے لحاظ سے یہ فعل ان ممبران کا مجھے بھی برا لگا اور دوسرے لوگوں کو بھی جو اس کام میں شامل تھے بُر الگا۔لیکن باوجود ہماری کوشش کے وہ قید اٹھائی نہ گئی اور قادیان میں اس کے بعد کوئی