تذکار مہدی — Page 764
تذکار مهدی ) 764 روایات سید نامحمود مشاعرہ نہیں ہوا۔پھر نا معلوم کس بنا پر نظارت امور عامہ نے اس سال یہاں مشاعرہ کی اجازت دے دی اور واقعات نے بتایا کہ جس قسم کی ذہنیت کسی گروہ میں ہوتی ہے۔اس کے نقال میں بھی ویسی ہی ذہنیت پیدا ہو جاتی ہے۔ایک اچھا بھلا، ہنستا کھیلتا ، اور خوش بخوش انسان جب مصنوعی طور پر رونے لگتا ہے۔تو وہ ویسی ہی حرکتیں کرتا ہے جو ایک رونے والا کرتا ہے۔ایک سمجھدار انسان جب بچہ کی نقل اتارتا ہے تو وہ ویسی ہی حرکتیں کرتا ہے جیسے کہ ایک بچہ کرتا ہے۔اسی طرح ان مشاعروں کے ساتھ بعض باتیں ایسی لگی ہوئی ہیں کہ جب کوئی شخص ان میں حصہ لیتا ہے تو وہ اسی قسم کی باتیں کرنے لگ جاتا ہے۔وہ بھول جاتا ہے کہ اس کا مذہب کیا ہے۔وہ بھول جاتا ہے کہ اس کا طریق کیا ہے یا یوں کہو کہ وہ خود اپنے آپ کو بھلانا چاہتا ہے اور اپنے آپ کو یقین دلانے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ احمدی نہیں یا وہ مسلمان نہیں تا کہ مذہب اسے اس قسم کی حرکات کرنے سے روکے نہیں۔چنانچہ پرسوں ثقہ اور مومنوں کی مجلس میں گرا ہوا مذاق اور بھانڈ پن کیا گیا اور وہ ساری باتیں جو بھانڈ اور میراثی کرتے ہیں۔پیٹ بھر کے کی گئیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایسا کرنے والے تو چند ہی ہوں گے۔ساری مجلس کے متعلق تو یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ سب کی سب بھانڈ بن گئی ہو۔لیکن دوسرے لوگوں کی ذہنیت اتنی ضرور بدل گئی ہوئی تھی کہ انہوں نے ایسی باتیں کرنے دیں۔خدا تعالیٰ نے صاف نسخہ بیان کیا ہوا ہے۔قرآن کریم میں آتا ہے کہ جب کوئی مجلس وقار انسانیت اور شرافت کے خلاف ہو تو اس میں بیٹھا نہ جائے اور یہ ایسا نسخہ ہے کہ جس میں پارٹی لیڈر یا جتھے کی ضرورت نہیں۔اگر کوئی شخص ایسی مجلس میں بیٹھا ہے جو شرافت وقار اور اخلاق کے خلاف ہو۔تو وہ وہاں سے چل دے۔یہی خیال پھر دوسرے کے دل میں آئے گا۔تو وہ بھی وہاں سے چل دے گا۔یہی خیال تیسرے کے دل میں آئے گا تو وہ بھی وہاں سے چل دے گا۔یہی خیال چوتھے کے دل میں آئے گا تو وہ بھی وہاں سے چل دے گا اور اگر اس مجلس میں کثرت شریفوں کی ہو گی۔تو شرارت کرنے والے ان سے معافی مانگ لیں گے اور ایسی حرکات سے پر ہیز کریں گے۔پس پرسوں پہلی غلطی امور عامہ نے کی کہ جس چیز کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے منع فرمایا تھا۔نظارت ہذا نے اس کی اجازت دے دی، دوسری غلطی خدام الاحمدیہ نے کی کہ باوجود اس حکم کے ایسے مواقع پر وہ آپ ہی آپ انتظام ہاتھ میں لے لیں۔انہوں نے انتظام ہاتھ میں نہ لیا۔تیسری غلطی سننے والوں نے کی۔اگر مشاعرہ میں بعض لوگوں نے