تذکار مہدی — Page 762
تذکار مهدی ) 762 روایات سید نامحمود لے کر فرماتے کہ ان سے پوچھ لو یا کسی اور مولوی کا نام لے لیتے اور بعض دفعہ جب آپ دیکھتے کہ اس مسئلہ کا کسی ایسے امر سے تعلق ہے۔جہاں بحیثیت مامور آپ کے لئے دنیا کی راہنمائی کرنا ضروری ہے۔تو آپ خود وہ مسئلہ بتا دیتے۔مگر جب کسی مسئلہ کا جدید اصلاح سے تعلق نہ ہوتا۔تو آپ فرما دیتے کہ فلاں مولوی صاحب سے پوچھ لیں۔اور اگر وہ مولوی صاحب مجلس میں ہی بیٹھے ہوئے ہوتے۔تو ان سے فرماتے کہ مولوی صاحب یہ مسئلہ کس طرح ہے۔مگر بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا کہ جب آپ کہتے کہ فلاں مولوی صاحب سے یہ مسئلہ دریافت کر لو تو ساتھ ہی آپ یہ بھی فرماتے کہ ہماری فطرت یہ کہتی ہے کہ یہ مسئلہ یوں ہونا چاہیئے اور پھر فرماتے ہم نے تجربہ کیا ہے کہ باوجود اس کے کہ کوئی مسئلہ ہمیں معلوم نہ ہو تو اس کے متعلق جو آواز ہماری فطرت سے اٹھے۔بعد میں وہ مسئلہ اسی رنگ میں حدیث اور سنت سے ثابت ہوتا ہے یہ چیز ہے جو تنویر کہلاتی ہے۔تو تنویر اس بات کو کہتے ہیں کہ انسانی دماغ میں جو خیالات بھی پیدا ہوں وہ بھی درست ہوں جس طرح ایک تندرستی تو یہ ہوتی ہے کہ انسان کہے میں اس وقت تندرست ہوں اور ایک تندرستی یہ ہوتی ہے کہ انسان آگے بھی تندرست رہے تو تنویر وہ فکر کی درستی ہوتی ہے جس کے نتیجہ میں آئندہ جو خیالات بھی پیدا ہوں درست ہوں۔تو روحانی ترقی کے لئے تنویر فکر ضروری ہوتی ہے۔اسی طرح روحانی ترقی کے لئے تقویٰ و طہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔الفضل 19 مارچ 1938 ء جلد 26 نمبر 55 صفحہ 2 ہنسی مذاق کرنا جائز ہے میں یہ نہیں کہتا کہ تمسخر اور مذاق کرنا جائز نہیں۔اپنے موقع پر تمسخر اور مذاق کرنا جائز ہے، ہم بھی تمسخر اور مذاق کرتے ہیں لیکن اپنے بچوں سے کرتے ہیں، بیویوں سے کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ سے نہیں کرتے۔تم بھی تمسخر کرو ، مذاق کرو لیکن خدا تعالیٰ سے تمسخر اور مذاق نہ کرو۔ہم یہ نہیں کہتے کہ تم ہمیشہ روتے رہو تم ہنسو بھی کھیلو بھی ، لیکن وقار کو ہمیشہ سامنے رکھو۔پیشگوئی میں جس قسم کے الفاظ ہیں اُن کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر اُسی دن ہاکی کھیلی جائے ، فٹ بال کے میچ کھیلے جائیں تو جائز ہوں گے۔لیکن خوشی منانے اور ہتک کرنے میں بھاری فرق ہے۔ہندوؤں میں دیوالی میں رنگ پھینکنا خوشی کی بات ہے چاہے وہ حماقت ہو۔باپ بیٹے پر رنگ پھینکتا ہے اور بیٹا باپ پر رنگ پھینکتا ہے لیکن اسے کوئی بُرا نہیں منا تا۔اگر اُس روز کوئی کسی پر