تذکار مہدی — Page 719
تذکار مهدی ) 719 روایات سید نا محمود بعض احمدیوں کے منہ سے بھی یہ بات سنی ہے حالانکہ طاعون کے ڈر سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کبھی اپنا گھر نہیں چھوڑا۔اس وقت چونکہ زلازل کے متعلق آپ کو کثرت سے الہامات ہو رہے تھے، اس لئے آپ نے یہی مناسب خیال فرمایا کہ کچھ عرصہ باغ میں رہیں۔باقی دوستوں کو بھی آپ نے وہیں رہنے کی تحریک کی اور چونکہ جلدی تھی اس لئے کچھ تو خیموں کا انتظام کیا گیا اور کچھ لوگوں نے اینٹیں اور چٹائیاں وغیرہ ڈال کر رہنے کے لئے خطبات محمود جلد 14 صفحہ 114-113) جھونپڑیاں بنالیں۔ہر قسم کا علاج کروانا چاہیئے ہندوستانی ڈاکٹروں میں سے نانوے فیصدی ایسے ہیں جو دوسرے سے مشورہ کو اپنی ہتک سمجھتے ہیں۔اس میں شک نہیں کہ ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب تجربہ میں جتنے سب اسسٹنٹ سرجن میں نے دیکھے ہیں، ان سے اچھے ہیں۔مگر باوجود اس کے یہ معنے نہیں کہ انہیں مشورہ کی ضرورت نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا قاعدہ تھا اور خود میں بھی جب 1918ء میں بیمار ہوا تو میں نے بھی ایسا ہی کیا کہ طبیب اور ڈاکٹر سب جمع کر لئے ڈاکٹروں کی دوائی بھی کھاتا تھا اور طبیبوں کی بھی۔کیا معلوم اللہ تعالیٰ کس سے فائدہ دے دے۔اگر کوئی ڈاکٹر اپنے آپ کو خدا سمجھتا ہے تو سمجھے، ہم تو اسے بندہ ہی سمجھتے ہیں۔یورپ کے ڈاکٹروں میں یہ مرض نہیں وہاں کے ڈاکٹر جب دیکھیں کہ حالت خطر ناک ہے یا ان کا جو اندازہ ہے کہ اتنے دنوں میں آرام ہوگا وہ پورا نہ ہو تو خود کہہ دیتے کہ دوسرا ڈاکٹر بلاؤ اور پھر اس سے خود تبادلہ خیالات کر کے (خطبات محمود جلد 14 صفحہ 129) مناسب علاج تجویز کریں گے۔مسجد مبارک کی برکت سے شفاء ایک دفعہ حضرت ام المؤمنین بیمار ہوئیں اور قریباً چالیس روز تک بیمار رہیں۔ایک دن حضرت صاحب نے فرمایا۔اس مسجد (مبارک) کے متعلق الہام ہے۔مُبَارِكٌ وَمُبَارَكٌ وَكُلُّ مُّبَارَكِ يَجْعَلُ فِيهِ ( تذکرہ صفحہ (83) اس میں چل کر دوا دیں۔آپ نے یہاں آ کر دوا پلائی دو گھنٹے کے اندرام المومنین اچھی ہو گئیں۔الفضل 14 فروری 1921 ءجلد 8 نمبر 61 صفحہ 6 )