تذکار مہدی — Page 718
تذکار مهدی ) 718 روایات سید نامحمود سال بعد وہ دہلی کی جماعت کے ساتھ مجھے ملنے آئے تو کہنے لگے میں ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں۔میں نے کہا بڑے شوق سے پوچھیں۔کہنے لگے کہ آپ سچ مچ بیمار رہتے ہیں یا بہانے بنایا کرتے ہیں؟ میں اُن کے اِس سوال پر حیران ہوا۔وہ کہنے لگے ہم جب آپ کی مجلس میں آتے ہیں تو آپ کھانس رہے ہوتے ہیں اور اس قدر کھانسی ہوتی ہے کہ ہم سمجھتے ہیں آپ چھوٹی سی تقریر بھی نہیں کر سکیں گے۔لیکن جب تقریر کرتے ہیں تو وہ چھ چھ گھنٹے تک کی لمبی ہو جاتی ہے۔میں نے کہا یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ بیمار بھی ہوتا ہوں تو وہ مجھ سے کام لے لیتا ہے۔پس میں نے یہ سارا واقعہ اس لیے بیان کر دیا ہے کہ لوگ محبت کی وجہ سے زخم کے متعلق پوچھتے رہتے ہیں۔سوکل ناخن کاٹا گیا ہے۔اب دباؤ پڑے تو تکلیف ہوتی ہے ورنہ درمیانی کیفیت ہے۔گوشت کا ٹکڑا لمبا ہو گیا ہے اور پھولا سا معلوم ہوتا ہے۔دوسرے مجھے اس سے خیال آیا کہ ہمارے پاس جو علوم تھے اور جن کی وجہ سے ہم دنیا میں سر بلند ہو سکتے تھے افسوس کہ ہم نے ان سے پوری طرح فائدہ نہیں اُٹھایا۔اس بیماری کے سلسلہ میں ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب لاہور گئے ہوئے تھے۔انہوں نے ایک احمدی ڈاکٹر سے اس بات کا ذکر کر دیا کہ میں ایک جراح سے علاج کروانا چاہتا ہوں تو وہ ڈاکٹر صاحب چونکہ دیسی طب کے سخت خلاف ہیں اس لیے کہنے لگے آپ حضور سے میری طرف سے عرض کر دیں کہ ایسا ہر گز نہ کرائیں۔اور اگر ایسا کرانا ہی ہے تو پھر ہمیں بھی داتا گنج بخش صاحب کے دربار میں جانے کی اجازت دے دیں۔یعنی جس طرح وہاں جانا بیوقوفی کی بات ہے اسی طرح کسی دیسی جراح سے علاج کروانا بھی بیوقوفی کی بات ہے۔( خطبات محمود جلد 34 صفحہ 295 تا 298 ) زلزلہ کی وجہ سے باغ میں قیام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک دفعہ ایسی ہی دو مختلف طبیعتیں رکھنے والوں کا اجتماع ہو گیا۔4 اپریل 1905ء کو جو خطرناک زلزلہ آیا۔اس موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو زلازل کے متعلق کثرت سے الہامات ہوئے۔آپ خدا تعالیٰ کے کلام کا ادب اور احترام کرتے ہوئے باغ میں تشریف لے گئے۔کئی بیوقوف کہہ دیا کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام طاعون سے ڈر کر باغ میں چلے گئے اور تعجب ہے کہ میں نے