تذکار مہدی — Page 707
تذکار مهدی ) 707 روایات سید نا محمود بہت بڑا عالم تھا۔اس نے طب کا علم خوب پڑھا تھا اس نے رنجیت سنگھ کا شہرہ سنا تو دتی سے اس کے دربار میں پہنچا کہ شاید ترقی حاصل ہو۔رنجیت سنگھ کا وزیر ایک مسلمان تھا اس نے اس سے ملاقات کی اور اس سے مہاراجہ سے ملنے کے لئے سفارش چاہی۔وزیر کو اندیشہ ہوا کہ اگر اس کا رسوخ ہو گیا تو میں نہ کہیں گر جاؤں اور طبیب کی سفارش نہ کرنا بھی اس نے مروت کے خلاف سمجھا۔مہاراجہ رنجیت سنگھ سے اس نے سفارش کی اور کہا کہ حضور یہ بہت بڑے عالم ہیں انہوں نے فلاں کتاب پڑھی ہے فلاں کتاب اور اس کے علم کی بہت تعریف کی مہاراجہ نے پوچھا کہ یہ تو بتاؤ کہ انہوں نے علاج میں کیا کیا تجربے حاصل کئے ہیں؟ وزیر نے کہا کہ تجربہ بھی حضور کے طفیل ہو جائے گا۔رنجیت سنگھ دانا آدمی تھا سمجھ گیا کہ علم بغیر عمل کے کچھ نہیں اور کہا کہ تجربہ کے لئے کیا غریب رنجیت سنگھ ہی رہ گیا ہے بہتر ہے کہ حکیم صاحب کو انعام دے کر رخصت کر دیا جائے۔تو ایک لوگ عملی تجربہ کار ہوتے ہیں جن کو مختلف شعبوں میں کام کی عملی واقفیت ہو اور عالم ہوتے ہیں کہ جہاں غلطی ہو ان سے مشورہ لیا جائے غلطیاں ہوں گی مگر اس سے بھی قابلیت پیدا ہوگی۔جیکب آباد میں گرمی خطبات جمعہ جلد 7 صفحہ 19-18 ) | مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بھی میں اخبارات پڑھا کرتا تھا۔تو ایک دفعہ اخبار میں یہ خبر شائع ہوئی کہ جیکب آباد میں درجہ حرارت 111 تک جا پہنچا ہے اور اس پر شور مچ گیا تھا۔کہ دوزخ کا منہ کھل گیا ہے۔ایک حدیث میں رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ دوزخ سال میں دو دفعہ سانس لیتا ہے۔ایک سانس تو وہ گرمی میں لیتا ہے اور ایک سانس سردی میں لیتا ہے۔اس دفعہ بھی گرمی اتنی شدید ہے کہ کمزور آدمی اس کی برداشت کی طاقت نہیں رکھتا۔نوجوان آدمی تو اس کی پروا نہیں کرتا۔آخر اس گرمی میں دوست روزے بھی رکھتے رہے ہیں۔(الفضل 20 مئی 1958 ء جلد 47/12 نمبر 117 صفحہ 1) دنیا میں کوئی چیز اپنی ذات میں نقصان دہ نہیں اگر اندازہ لگایا جائے تو سال میں ہزار دو ہزار آدمی سنکھیا کھانے سے مرتے ہیں لیکن جولوگ اس سے شفا پاتے ہیں ان کی تعداد لاکھوں تک ہے پرانے ملیریا کے مریض پر جب کوئی