تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 706 of 862

تذکار مہدی — Page 706

تذکار مهدی ) 706 روایات سید نا محمود مصائب تمہیں اپنی نظروں میں بیچ نظر آنے لگ جائیں گے۔گزشتہ تیرہ سو سال کے عرصہ میں جس نے بھی قرآن کریم پر سچے دل سے عمل کیا ہے اللہ تعالیٰ کی مدد ہمیشہ اس کے شاملِ حال رہی ہے اور مصائب اور مشکلات کے ہجوم میں وہ اس کی تائیدات کا مشاہدہ کرتا رہا ہے۔مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے دوسرے سالانہ اجتماع میں خطابات، انوار العلوم جلد 25 صفحہ 499 ) جزاء سے نا اُمید نہیں ہونا چاہئیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے۔کیمیا گر جب ناکام رہتا ہے تو کہتا ہے کہ ایک آنچ کی کسر رہ گئی ہے۔گویا وہ کیمیا گر بننے سے نا امید نہیں ہوتا بلکہ اپنی کوشش کا نقص قرار دیتا ہے حالانکہ کیمیا گری میں اُمید کی گنجائش ہی نہیں اور خدا کے ساتھ تعلق بڑھنے اور اس کے قریب ہونے کی تو پوری اُمید ہے۔مگر کیمیا گر جس کی ساری عمر ہی ایک آنچ کی کسر میں گذر جاتی ہے وہ تو باوجود ہر دفعہ کی ناکامی کے نا امید نہیں ہوتا لیکن وہ شخص جو خدا تعالیٰ کے قریب ہونا چاہے کامیاب نہیں ہوتا تو اپنے طریق عمل کا نقص قرار نہیں دیتا بلکہ خدا تعالیٰ سے ناامید ہو کر فوراً ناامید ہو جاتا ہے اور اپنی تمام کوششیں چھوڑ بیٹھتا ہے۔پس کیمیا گر تو غلطی کو اپنی طرف منسوب کرتا ہے اور سونا بننے کے خیال کو یقینی سمجھتا ہے لیکن خدا تعالیٰ کو پانے کی کوشش کرنے والا اپنی غلطی کو خدا کی طرف منسوب کرتا ہے اور اسے چھوڑ دیتا ہے۔ایسے لوگ عبادتیں ہی غلط طریق سے کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ خدا نہیں ملتا۔اگر وہ غلطی اپنی طرف منسوب کرتے اس کی اصلاح کی کوشش کرتے تو ضرور کامیاب ہو جاتے لیکن وہ ایسا کرتے ہی نہیں۔علم کے ساتھ تجربہ بھی ضروری ہے (خطبات محمود جلد 11 صفحہ 60) علم کے ساتھ تجربہ کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر کوئی شخص محض کتاب پڑھ کر طبیب بننا چاہے تو محال ہے ضرورت ہے کہ طب کی کتب پڑھنے کے ساتھ لائق طبیب کے سامنے مریضوں کی تشخیص اور علاج کیا ہوتب کامل ہوگا ورنہ علم بغیر عمل کے ناقص رہے گا اور عمل بغیر علم کے مفید نہیں ہوگا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسی علم اور عمل کے متعلق سناتے تھے کہ ایک طبیب تھا جو