تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 708 of 862

تذکار مہدی — Page 708

تذکار مهدی ) 708 روایات سید نا محمود دواثر نہیں کرتی تو وہ سنکھیاں کی قلیل مقدار سے ٹھیک ہو جاتا ہے۔اس کے علاوہ اور بھی کئی قسم کے امراض کے لئے ہے اسی طرح کچلہ ہے۔یہ بھی زہر ہے اس کے کھانے سے کئی لوگ مرجاتے ہیں لیکن لاکھوں لاکھ انسان اس سے بچتے بھی ہیں۔اسی طرح بہت بڑی تباہی والی چیز افیون ہے لیکن اس کی تباہی کے مقابلہ میں اس کے فوائد بہت زیادہ ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ اطباء کا قول ہے کہ طب کی آدھی دوائیں ایسی ہیں جن میں افیون استعمال ہوتی ہے اور اس کا اتنا فائدہ ہے کہ اندازہ لگانا مشکل ہے۔جب انسان کو بے چینی اور بیکلی ہوتی ہے، جب انسان کی نیند اُڑ جاتی ہے، جب انسان درد سے نڈھال ہوکر خود کشی کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے تو اُس کو مارفیا کا ٹیکا لگاتے ہیں جس سے اُسے فوراً آرام ہو جاتا ہے پس دنیا میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں جو اپنی ذات میں نقصان دینے والی ہو۔نقصان دینے والی چیز صرف غلط استعمال ہے جو انسان کی اپنی کوتاہیوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔اسی لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مرض کو اپنی طرف اور شفاء کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کیا ہے مگر ہمارے ملک میں ایک مسلمان خدا تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہوئے جب کسی کام میں ناکام ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے میں نے تو پورا زور لگا دیا تھا لیکن خدا تعالیٰ نے مجھے نا کام کر دیا۔گویا وہ خوبی کو اپنی طرف اور برائی کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے۔یہ خدا تعالیٰ کی بڑی بھاری ہتک ہے جو ہمارے ملک میں کی جاتی ہے حالانکہ سچے مومن کا یہ طریق ہوتا ہے کہ جب اس کے کام کا اچھا نتیجہ نکل آتا ہے تو کہتا ہے اَلْحَمْدُ لِلهِ خدا تعالیٰ نے مجھے کامیاب کر دیا اور اگر خراب نتیجہ نکلتا ہے تو اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھتا ہے اور کہتا ہے میں اپنی کوتاہیوں کی وجہ سے ناکام رہا ہوں۔( تفسیر کبیر جلد ہفتم صفحہ 169 تا 170 ) اخبارات کی اہمیت جماعتی معاملات میں افراد کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتے بلکہ کبھی زندہ نہیں رہ سکتے جب تک اُن کا جڑ سے تعلق نہ ہو اور اس زمانہ میں یہ تعلق پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ اخبارات ہیں انسان کسی جگہ بھی بیٹھا ہوا ہوا گر ا سے سلسلہ کے اخبارات پہنچتے رہیں تو وہ ایسا ہی ہوتا ہے جیسے پاس بیٹھا ہے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے میں اب بول رہا ہوں گو عورتوں کا جلسہ بہت دُور ہے مگر لاؤڈ سپیکر کی وجہ سے وہ بھی میری تقریر سن رہی ہیں۔اگر لاؤڈ سپیکر نہ ہوتا تو انہیں کچھ علم نہ