تذکار مہدی — Page 692
تذکار مهدی ) 692 روایات سید نا محمود کا اندازہ ہو جاتا ہے۔تو جس وقت محبت کا انتہائی جوش اٹھتا ہے۔عقل اس وقت کام نہیں کرتی۔محبت پرے پھینک دیتی ہے عقل کو اور محبت پرے پھینک دیتی ہے فکر کو۔اور وہ آپ سامنے آجاتی ہے۔جس طرح چیل جب مرغی کے بچوں پر حملہ کرتی ہے۔تو مرغی بچوں کو جمع کر کے اپنے پروں کے نیچے چھپا لیتی ہے اور بعض دفعہ تو محبت ایسی ایسی حرکات کرا دیتی ہے کہ دنیا اسے پاگل پنے کی حرکات قرار دیتی ہے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ جنون دنیا کی ساری عقلوں سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے اور دنیا کی ساری عقلیں اس ایک مجنونانہ حرکت پر قربان کی جاسکتی ہیں کیونکہ اصل عقل وہی ہے جو محبت سے پیدا ہوتی ہے۔نبی کو بھی جب آواز آتی ہے کہ خدا زمین و آسمان کو پیدا کرنے والا خدا۔خدا عزت و شوکت کو پیدا کرنے والا خدا۔بادشاہوں کو گرا اور گداؤں کو بادشاہ بنانے والا خدا۔حکومتوں کو قائم کرنے اور حکومتوں کو مٹانے والا خدا، دولتوں کے دینے اور دولتوں کو لے لینے والا خدا، رزق کے دینے اور رزق کو چھیننے والا خدا۔زمین و آسمان کے ذرہ ذرہ اور کائنات کا مالک خدا آواز دیتا ہے۔ایک کمزور ناتوان اور ایک نحیف انسان کو کہ میں مدد کا محتاج ہوں۔میری مدد کرو۔تو وہ کمزور اور ناتوان اور نحیف بندہ عقل سے کام نہیں لیتا۔وہ یہ نہیں کہتا کہ حضور کیا فرما رہے ہیں؟ کیا حضور مدد کے محتاج ہیں۔حضور تو زمین و آسمان کے بادشاہ ہیں۔میں کنگال غریب اور کمزور آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں۔وہ یہ نہیں کہتا۔بلکہ وہ نحیف وزار اور کمزور جسم کو لے کر کھڑا ہو جاتا ہے اور کہتا ہے میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں۔کون ہے جوان جذبات کی گہرائیوں کا اندازہ کر سکتا ہے۔سوائے اس کے جس کو محبت کی چاشنی سے تھوڑا بہت حصہ ملا ہو۔آج سے پچاس سال پہلے اسی خدا نے پھر یہ آواز بلند کی اور قادیان کے گوشہ تنہائی میں پڑے ہوئے ایک انسان سے کہا کہ مجھے مدد کی ضرورت ہے۔مجھے دنیا میں ذلیل کر دیا گیا ہے۔میری دنیا میں کوئی عزت نہیں میرا دنیا میں کوئی نام لیوا نہیں۔میں بے یار و مددگار ہوں۔اے میرے بندے میری مدد کر اس نے یہ نہیں سوچا کہ یہ کہنے والا کون ہے اور جس سے خطاب کیا جاتا ہے وہ کون ہے۔اس کی عقل نے یہ نہیں کہا کہ مجھے بلانے والے کے پاس تمام طاقتیں ہیں۔میں بھلا اس کی کیا مدد کر سکتا ہوں۔اس کی محبت نے اس کے دل میں ایک آگ لگا دی اور وہ دیوانہ وار جوش میں کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا۔میرے رب میں حاضر ہوں۔میرے رب میں حاضر ہوں۔میرے رب میں بچاؤں گا۔میرے رب میں بچاؤں گا۔( الفضل 25 جنوری 1940 ء جلد 28 نمبر 15 صفحہ 8 تا 10 ) |