تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 691 of 862

تذکار مہدی — Page 691

تذکار مهدی ) 691 روایات سیّد نا محمود کہ جو کچھ میرے پاس ہے۔وہ مجھے حاضر کر دینا چاہئے۔ایسے ہی بیوقوفی کے واقعات میں مجھے بھی اپنا ایک واقعہ یاد ہے۔کئی دفعہ اس واقعہ کو یاد کر کے میں ہنسا بھی ہوں اور بسا اوقات میری آنکھوں میں آنسو بھی آگئے ہیں۔مگر میں اسے بڑی قدر کی نگاہ سے بھی دیکھا کرتا ہوں اور مجھے اپنے زندگی کے جن واقعات پر ناز ہے۔ان میں وہ ایک حماقت کا واقعہ بھی ہے۔وہ واقعہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک رات ہم سب صحن میں سو رہے تھے۔گرمی کا موسم تھا کہ آسمان پر بادل آیا۔اور زور سے گر جنے لگا۔اسی دوران میں قادیان کے قریب ہی کہیں بجلی گر گئی۔مگر اس کی کڑک اس زور کی تھی کہ قادیان کے ہر گھر کے لوگوں نے یہ سمجھا۔کہ یہ بجلی شاید ان کے گھر میں ہی گری ہے۔ہمارے مدرسہ میں ہی ایک واقعہ ہوا۔جس کو یاد کر کے لڑ کے مدتوں ہنستے رہے اور وہ یہ کہ فخر الدین ملتانی جو بعد میں مرتد ہو گیا۔وہ اس وقت طالب علم تھا اور بورڈنگ ہاؤس میں رہا کرتا تھا۔جب بجلی کی زور سے کڑک ہوئی تو اس نے اپنے متعلق سمجھا کہ بجلی شاید اس پر گری ہے اور وہ ڈر کے مارے چار پائی کے نیچے چھپ گیا اور زور زور سے آواز دینے لگا کہ ملتی بیتی۔بجلی کا لفظ اس کے مونہہ سے نکلتا ہی نہیں تھا۔ڈر کے مارے بلی بلی کہنے لگ گیا۔پہلے تو سارے ہی لڑکے بھاگ کر کمروں میں چلے گئے۔مگر پھر تھوڑی دیر کے بعد باہر نکلے۔تو اسے چار پائی کے نیچے چھپا ہوا پایا اور دیکھا کہ وہ بلی بلی کر رہا ہے۔آخر پوچھا تو اس ا کے ہوش ٹھکانے آئے اور کہنے لگا مجھ پر بجلی گر پڑی ہے۔تو وہ اتنی زور کی کڑکی تھی۔کہ ہر شخص نے یہ سمجھا کہ اسی کے قریب بجلی گری ہے۔اس کڑک کی وجہ سے اور کچھ بادلوں کی وجہ سے تمام لوگ کمروں میں چلے گئے۔جس وقت بجلی کی یہ کڑک ہوئی۔اس وقت ہم بھی جو سن میں سورہے تھے۔اٹھ کر اندر چلے گئے مجھے آج تک وہ نظارہ یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب اندر کی طرف جانے لگے۔تو میں نے اپنے دونوں ہاتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سر پر رکھ دیئے کہ اگر بجلی گرے تو مجھ پر گرے۔ان پر نہ گرے۔بعد میں جب میرے ہوش ٹھکانے آئے۔تو مجھے اپنی اس حرکت پر جنسی آئی کہ ان کی وجہ سے تو ہم نے بجلی سے بچنا تھا۔نہ یہ کہ ہماری وجہ سے وہ بجلی سے محفوظ رہتے میں سمجھتا ہوں۔میری وہ حرکت ایک مجنون کی حرکت سے کم نہیں تھی۔مگر مجھے ہمیشہ خوشی ہوا کرتی ہے۔کہ اس واقعہ نے مجھ پر بھی اس محبت کو ظاہر کر دیا جو مجھے حضرت مسیح موعود علیہ والسلام سے تھی۔بسا اوقات انسان خود بھی نہیں جانتا کہ مجھے دوسرے سے کتنی محبت ہے۔جب اس قسم کا کوئی واقعہ ہو تو اسے بھی اپنی محبت کی وسعت اور اس کی گہرائی