تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 690 of 862

تذکار مہدی — Page 690

تذکار مهدی ) 6 690 ☀ روایات سید نامحمود اصل بات یہ ہے کہ جب مجھے آپ کی آواز آئی تو میں نے سمجھا کہ ضرور کوئی بڑا کام ہے جس کے لئے آپ رات کو میرے پاس آئے ہیں۔میں نے سوچا کہ آخر آپ کو مجھ سے اس وقت کیا کام ہوسکتا ہے اور میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ دنیا میں مصیبتیں آتی رہتی ہیں اور بعض دفعہ بڑے بڑے امیر آدمی بھی بلا میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔پس میں نے سمجھا کہ شائد کوئی بیمار ہے جس کی خدمت کے لئے مجھے بلایا ہے۔اس لئے میں نے فوراً اپنی بیوی کو جگایا اور کہا کہ میرے ساتھ چل۔ممکن ہے کسی خدمت کی ضرورت ہو۔پھر میں نے سوچا ممکن ہے کسی دشمن سے مقابلہ ہو جس میں میری جان کی ضرورت ہو۔سواس خیال کے آنے پر میں نے تلوار نکال کر گلے میں لٹکالی کہ اگر جانی قربانی کی ضرورت ہو تو میں اس کے لئے بھی حاضر ہوں۔پھر میں نے سوچا کہ آپ امیر تو ہیں ہی۔مگر بعض دفعہ امراء پر بھی ایسے اوقات آجاتے ہیں کہ وہ روپوں کے محتاج ہو جاتے ہیں۔پس میں نے سوچا کہ شاید اس وقت آپ کو روپوں کی ضرورت ہو۔میں نے ساری عمر تھوڑا تھوڑا جمع کر کے کچھ روپیہ حفاظت سے رکھا ہوا تھا اور اسے زمین میں ایک طرف دبا دیا تھا۔اس خیال کے آنے پر میں نے زمین کو کھود کر اس میں سے تھیلی نکالی اور اب یہ تینوں چیزیں حاضر ہیں۔فرمائیے آپ کا کیا ارشاد ہے؟ دنیا کی زبان میں یہ دوستی کی نہایت ہی شاندار مثال ہے اور انسان ایسے جذبات کو دیکھ کر بغیر اس کے کہ وہ اپنے دل میں شدید ہیجان محسوس کرے نہیں رہ سکتا۔مگر اس دوستی کا اظہار اس دوستی کے مقابلہ میں کچھ بھی تو نہیں۔جو نبی اپنے خدا کے لئے ظاہر کرتے ہیں۔وہاں قدم قدم پر مشکلات ہوتی ہیں۔وہاں قدم قدم پر قربانیاں پیش کرنی پڑتی ہیں۔اور وہاں قدم قدم پر مشکلات سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔پس نبیوں کا جواب اپنے خدا کو ویسا ہی ہوتا ہے۔بلکہ اس سے بہت بڑھ کر جیسے اس غریب آدمی نے امیر آدمی کو دیا۔بے شک اگر ہم معقولات کی نظر سے اس کو دیکھیں اور منطقی نقطہ نگاہ سے اس پر غور کریں۔تو اس غریب آدمی کی یہ حرکت ہنسی کے قابل نظر آتی ہے کیونکہ اس امیر کے ہزاروں نوکر چاکر تھے۔ان کے ہوتے ہوئے اس کی بیوی نے کیا زائد خدمت کر لینی تھی۔اسی طرح وہ لاکھوں کا مالک تھا۔اس کو سو ڈیڑھ سو روپیہ کی تھیلی کیا فائدہ پہنچا سکتی تھی اور خود اس کے کئی پہر دار اور محافظ تھے۔اس کو اس دوست کی تلوار کیا نفع پہنچا سکتی تھی مگر محبت کے جوش میں اس نے یہ نہیں سوچا کہ میری یہ تلوار کیا کام دے گی۔میرا تھوڑا سا روپیہ کیا فائدہ دے گا اور میری بیوی کیا خدمت سرانجام دے سکے گی۔اس نے اتنا ہی سوچا