تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 680 of 862

تذکار مہدی — Page 680

تذکار مهدی ) 680 روایات سید نامحمود نقصانات کا بھی۔اس نے نقصانات بتانے شروع کر دیئے کہ اس میں یہ بھی خرابی ہوتی ہے اور وہ بھی خرابی ہوتی ہے اور پھر کہنے لگا۔حضور اس کی شکل بھی دیکھئے کتنی منحوس ہوتی ہے۔جس وقت یہ کمبخت پودے کے ساتھ لٹکا ہوا ہوتا ہے۔تو بالکل یوں معلوم ہوتا ہے۔جیسے کسی چور کے ہاتھ منہ کالے کر کے اسے کسی صلیب پر لٹکا یا ہوتا ہے درباریوں نے بعد میں اسے بڑی ملامت کی اور کہا کہ تو بڑا بے حیا ہے۔اس دن تو بینگن کی اتنی تعریف کر رہا تھا اور آج تو نے اس کی مذمت شروع کر دی وہ کہنے لگا۔میں راجہ کا نوکر ہوں۔بینگن کا نہیں۔اسی طرح ہم بھی خدا کے نوکر ہیں مولویوں کے نہیں۔اگر خدا کسی وجہ سے ہمارا ساتھ دینے لگتا ہے تو چاہے وہ کتنی چھوٹی وجہ ہو۔ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ہو گی کہ وہ چھوٹی وجہ ہے۔اگر ایک چھوٹی وجہ سے ہی خدا ہمارے ساتھ ہو گیا ہے اور اس کی تائید ہمارے شامل حال ہو گئی ہے۔تو ہمیں اس وجہ کے چھوٹا ہونے کی کوئی پرواہ نہیں ہوگی۔کیونکہ ہمارا اصل مقصود خدا ہے۔اور ہم خدا کے نوکر ہیں مولویوں کے نہیں۔جب خدا ہمارے ساتھ ہو گیا تو ہماری غرض پوری ہو گئی۔اب ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ دنیا ہمیں اچھا کہتی ہے یا برا کہتی ہے۔اگر خدا ہمارے ساتھ ہے تو دنیا کی مخالفت ہماری نگاہ میں ایک ذرا بھر بھی حقیقت نہیں رکھتی۔(الفضل 8 جون 1957ءجلد 46/11 نمبر 136 صفحہ 4) علم مجلس بھی نہایت ضروری ہے مبلغ کے لئے یہ نہایت ضروری ہے کہ وہ علم مجلس سے واقف ہو اور کسی بات کے متعلق ایسی لاعلمی کا اظہار نہ کرے جو بیوقوفی کی حد تک پہنچی ہوئی ہو۔حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ایک بادشاہ تھا جو کسی پیر کا بڑا معتقد تھا اور اپنے وزیر کو کہتا رہتا تھا کہ میرے پیر سے ملو۔وزیر چونکہ اس کی حقیقت جانتا تھا اس لئے ٹلاتا رہتا۔آخر ایک دن جب بادشاہ پیر کے پاس گیا تو وزیر کو بھی ساتھ لیتا گیا۔پیر صاحب نے بادشاہ سے مخاطب ہو کر کہا۔بادشاہ سلامت دین کی خدمت بڑی اچھی چیز ہے سکندر بادشاہ نے دین اسلام کی خدمت کی اور وہ اب تک مشہور چلا آتا ہے یہ سن کر وزیر نے کہا دیکھئے حضور! پیر صاحب کو ولائیت کے ساتھ تاریخ دانی کا بھی بہت بڑا ملکہ ہے۔اس پر بادشاہ کو اس سے نفرت ہو گئی۔حضرت صاحب یہ قصہ سنا کر فرمایا کرتے تھے کہ علم مجلس بھی نہایت ضروری ہے۔جب تک انسان اس سے واقف نہ ہو دوسروں کی نظروں میں حقیر ہو جاتا ہے۔اسی طرح آداب مجلس کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے مثلاً ایک مجلس مشورہ کی ہو رہی ہو اور کوئی