تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 679 of 862

تذکار مہدی — Page 679

تذکار مهدی ) 679 روایات سید نا محمود ہوتے ہیں اس لئے انہوں نے جدت پیدا کی تو راجہ نے ایک دن کہا بینگن بہت بری شئے ہے۔اس پر اسی مصاحب نے اس کی برائیاں بیان کرنی شروع کر دیں۔کہنے لگا شکل تو دیکھئے۔کالا مونہہ نیلے پاؤں ہیں اس سے بھی زیادہ اور کیا اس کی برائی ہوسکتی ہے کہ الٹا لٹکا ہوا ہے۔جیسے کسی نے پھانسی پر لٹکایا ہو۔چونکہ ہر شئے کی کچھ خوبیاں اور کچھ برائیاں ہوتی ہیں اس موقعہ پر اس مصاحب نے اس کی تمام وہ برائیاں جو طبی طور پر تھیں بیان کیں۔پاس بیٹھنے والوں میں سے کسی نے کہا یہ کیا؟ اس نے جواب دیا۔میں راجہ کا نوکر ہوں نہ بینگن کا۔ایسے لوگ جوست بچنئے ہوتے ہیں جس مجلس میں جاتے ہیں ویسے ہی ہو جاتے ہیں اگر وہ جماعت کے لوگوں سے ملتے ہیں تو وہی کام کرنا شروع کر دیتے ہیں جو جماعت کے افراد کر رہے ہوتے ہیں وعظ کہنا شروع کر دیتے ہیں۔تبلیغ کرنی شروع کر دیتے ہیں۔مضامین نویسی شروع کر دیتے ہیں لیکن جب دوسروں میں جاتے ہیں تو انہیں کے سے ہو جاتے ہیں۔راجہ کا غلام ہوں بینگن کا نہیں (خطبات محمود جلد نمبر 10 صفحہ 78) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لطیفہ سنایا کرتے تھے کہ ایک راجہ نے ایک دفعہ بینگن کی بھیجیا کھائی۔جو اسے بڑی مزیدار معلوم ہوئی۔وہ دربار میں آیا اور کہنے لگا بینگن بڑی اچھی چیز ہے۔آج میں نے اس کی بھجیا کھائی ہے جو بڑی مزیدار تھی۔اس پر ایک درباری کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا حضور بینگن تو عجیب چیز ہے۔جس وقت یہ پودے کے ساتھ لٹکا ہوا ہوتا ہے تو بالکل یوں معلوم ہوتا ہے۔جیسے کوئی صوفی ایک کو نہ میں سر نیچے اور پیر اونچے کر کے خدا کی عبادت میں مشغول ہو اور پھر حضور اگر طب کی کتابوں کا مطالعہ فرمائیں تو حضور کو معلوم ہوگا کہ اس میں بڑی بڑی خوبیاں ہیں۔چنانچہ اس نے ایک ایک کر کے بینگن کی خوبیاں بیان کرنی شروع کر دیں۔اس کے بعد چند دن متواتر جو راجہ نے بینگن استعمال کیے تو اسے بواسیر ہو گئی۔اس پر وہ دربار میں آکر کہنے لگا کہ میں تو سمجھتا تھا کہ بینگن بڑی اچھی چیز ہے مگر معلوم ہوتا ہے کہ اس میں بھی نقص ہیں۔میں نے چند بینگن کھائے تو مجھے بواسیر ہوگئی ہے اس پر وہی درباری پھر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا۔حضور بینگن بڑی خراب چیز ہے۔طب کی کتابوں میں اس کا یہ نقص بھی ہے وہ نقص بھی لکھا ہے۔طب کی کتابوں میں آخر ہر چیز کے فوائد کا بھی ذکر ہوتا ہے۔اور لکھا۔