تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 635 of 862

تذکار مہدی — Page 635

تذکار مهدی ) 635 روایات سید نا محمود نے خود ایک قاش لے کر منہ میں ڈالی تو وہ نہایت تلخ تھی اس نے کہا لقمان یہ تو بڑی تلخ اور کڑوی ہے تم اسے اس مزے اور شوق سے کھا رہے ہو تو حضرت لقمان نے جواب میں کہا کہ جس کے ہاتھ سے ہزاروں میٹھی چیزیں کھائی ہیں اگر ایک دفعہ کڑوی اور تلخ کھالی تو کون سا حرج ہو گیا۔اس شخص کے احسانات حضرت لقمان پر اتنے کیا ہوں گے لیکن انہوں نے اس کی ایسی قدر کی کہ اس کی دی ہوئی تلخ شے کو بھی میٹھا سمجھ کر کھا لیا۔پھر خدا تعالیٰ کے اس قدر احسانات کے ہوتے ہوئے بھی جن کا کوئی حساب نہیں مومن کو کس ایمان کا نمونہ دکھانا چاہئے اور اگر کبھی اس کے لئے تکلیف برداشت کرنی پڑے تو کس خوشی سے اس کو قبول کرنا چاہئے۔( خطبات محمود جلد چہارم صفحه 514 تا 515 ) | سلطان عبد الحمید کا توکل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سلطان عبد الحمید کی ایک بات کا اکثر ذکر فرماتے اور فرمایا کرتے کہ اُس کی یہ بات مجھے بہت ہی پیاری لگتی ہے۔باوجود اس کے کہ آپ ترکوں کی حالت پرشا کی تھے کہ وہ دین کی طرف توجہ نہیں کرتے مگر اس بات کو آپ بہت ہی پسند فرماتے تھے کہ جب جنگ یونان یا شاید کوئی اور جنگ ہونے لگی تو سلطان نے اپنے جرنیلوں کو مشورہ کے لئے بلایا وہ لوگ چونکہ غدار تھے اور یورپ کی سلطنتوں سے رشوتیں لے چکے تھے اس لئے انہوں نے کہا کہ فلاں سامان ہے، فلاں ہے اور پھر آخر میں کسی اہم چیز کا نام لے کر کہہ دیا کہ وہ نہیں۔مطلب یہ تھا کہ اس کے نہ ہونے کی صورت میں سلطان لڑائی پر کیسے آمادہ ہو گا۔لیکن سلطان نے ان کی یہ بات سن کر کہا کہ کوئی خانہ تو خدا کے لئے بھی خالی رہنے دو اور چلولڑائی شروع کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ سلطان کی یہ بات مجھے بہت پسند ہے۔تو جنگ بدر کے موقع پر بھی اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ اس کا خانہ خالی رہے اور کوئی مقام ایسا ہو جہاں سے وہ اپنے دشمنوں پر حملہ کر سکے۔مسلمان تو چاہتے تھے کہ سب کچھ ہم ہی کریں لیکن خدا تعالیٰ چاہتا تھا کہ میرا بھی حصہ ہو اور اس طرح گویا مؤمن اور خدا میں محبت کی بحث تھی ہاں جو لوگ مخلص نہیں ہوتے وہ یہی کہتے ہیں کہ سارا خدا کرے جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے کہہ دیا کہ فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هُهُنَا قُعِدُونَ (المائدہ: 25) جا تُو اور تیرا رب لڑتے پھر وہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔لیکن خالص مسلمانوں نے کہا ہم موسیٰ کے صحابہ والا