تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 636 of 862

تذکار مہدی — Page 636

تذکار مهدی ) 636 جواب نہیں دیں گے بلکہ ہم آپ کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے لڑیں گے۔روحانی جماعتیں تو کل خدا تعالیٰ پر رکھتی ہیں روایات سید نا محمود خطبات محمود جلد 16 صفحہ 592-591 ) | روحانی جماعتوں کا تعلق مادیات سے نہیں ہوتا۔روحانی جماعتیں اپنے کاموں میں اللہ تعالیٰ کی امداد اور اس کی نصرت پر انحصار رکھتی ہیں۔جب کبھی بھی روحانی کہلانے والی جماعتیں مادی اشیاء پر نظر کرتی ہیں اور ان سے اُمید رکھتی ہیں تو اُن کی طاقت کمزور ہوتی چلی جاتی ہے اور جب کبھی بھی وہ خدا تعالیٰ پر نظر رکھتی ہیں اور اُس پر تو کل رکھتی ہیں تو اُن کی روحانی طاقت کے علاوہ مادی طاقت بھی ترقی کرتی چلی جاتی ہے۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ سلطان عبدالحمید جو ترکوں کے بادشاہ تھے اور عارضی طور پر اُن کے زمانہ میں مسلمانوں کو بھی ترقی ہوئی اُس کی ایک بات مجھے بہت پسند ہے۔جب ملک کی نوجوان پارٹی نے انہیں معزول کر کے اپنا سکہ جمالیا تو اردگرد کی حکومتوں نے ترکی حکومت کو کمزور کر دیا۔عرب لوگ بھی بدظن ہو گئے کیونکہ سلطان عبدالحمید کا سلوک اُن سے اچھا تھا۔ان سے پہلے عرب شا کی تھے کہ ترک ان سے اچھا سلوک نہیں کرتے۔سلطان عبدالحمید نے انہیں تعلیم دلانا شروع کی ، انہیں کالجوں میں تعلیم دلوا کر فوجی اور دوسرے اہم کاموں پر لگایا اور ترکی حکومت میں انہیں داخل کرنا شروع کیا۔ترک سمجھتے تھے کہ سلطان عبدالحمید عربوں کو آگے لا کر ترکوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اس لیے ان کی یہ پالیسی درست نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ سلطان عبدالحمید بہت اچھا آدمی تھا اور اُس کی ایک بات مجھے بہت اچھی لگتی ہے۔ایک جنگ کے متعلق جو شاید یونان والی جنگ تھی یا کوئی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ جب اُس کے آثار پیدا ہوئے تو سلطان عبدالحمید نے تمام وزراء اور بڑے افسروں کی ایک کانفرنس بلائی کہ اس صورتِ حالات میں ترکی حکومت کو دب کر صلح کر لینی چاہیے یا جنگ کرنی چاہیے۔ترکی کے بعض جرنیل یورپین حکومتوں کے خریدے ہوئے تھے، وہ جنگ نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن وہ یہ کہنے کے لیے بھی تیار نہیں تھے کہ ہم جنگ کے لیے تیار نہیں۔جب سلطان عبدالحمید نے اُن سے مشورہ طلب کیا تو انہوں نے کہا فلاں چیز بھی ٹھیک ہے، فلاں چیز بھی ٹھیک ہے لیکن فلاں