تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 634 of 862

تذکار مہدی — Page 634

تذکار مهدی ) 634 روایات سید نا محمود شخص ایک ولی اللہ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ دعا کریں کیونکہ مسلمان تباہ اور ہلاک ہو رہے ہیں اور کفار نے تمام بڑے بڑے آدمیوں کو قتل کر دیا ہے تو اس وقت اس نے کہا کہ میں جب آسمان کی طرف دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتا ہوں تو ملائکہ کی طرف سے یہ آواز آتی ہے۔أَيُّهَا الْكُفَّارُ اقْتُلُوا الْفُجَّارَ۔اے کا فرو! ان فاجروں کو مارو۔حالانکہ ان دونوں فریقوں میں بڑا فرق تھا۔ایک خدا کو ماننے والے تو دوسرے اس کے منکر۔ایک رسولوں اور اس کی کتابوں کو ماننے والے مگر دوسرے اس سے متنفر۔ایک دین کو ماننے والے اور دوسرے اس سے بیزار۔ایک قرآن کو ماننے والے اور دوسرے اس کو مٹانے والے۔اس میں کیا بھید ہے۔یہی تو ہے کہ کفار گوایسے ظاہر دشمن ہیں کہ جن کے دل میں ذرا بھی ایمان نہیں وہ تو خدا کا انکار کرتے ہیں مگر یہ باوجود ماننے کے پھر نہیں مانتے اور دین سے خارج ہیں۔مسلمان کہتے تو تھے کہ ہم میں ایمان ہے مگر دراصل ان میں ایمان نہ تھا۔لَا إِلهُ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ کہتے تھے مگر پھر ناکام و نامراد تھے یہی بات تو تھی کہ ان کے ایمانوں میں دنیا کی محبت مل گئی تھی اور خدا تعالیٰ سے پورا تعلق نہیں رہا تھا اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ خالص ایمان رکھ کر خدا تعالیٰ کو نہیں پکارتے تھے بلکہ ان کا آہ و زاری کرنا کسی خاص مدعا اور مقصد کے لئے تھا وہ خدا کی عبادت کرتے تھے لیکن در حقیقت ان کی عبادت کسی خاص غرض کے لئے ہوتی تھی۔پس مومن کو چاہئے کہ یک طرفہ تعلق رکھے اور ہر رنج دکھ تکلیف اور آرام میں غرض بہر حال خدا تعالیٰ سے راضی ہو۔بہت مسلمان جب کہ ان سے کہا جاتا ہے کہ تم نماز روزہ ادا کرو تو کہہ دیتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ہم کو دیا کیا ہے جو اتنی مشقت میں پڑیں۔حالانکہ وہ احمق نہیں جانتے کہ جس منہ سے وہ یہ جواب دیتے ہیں اور جس دماغ سے سوچتے ہیں وہ بھی تو خدا ہی کا دیا ہوا تو ہے جب اس کے اس قدر احسان اور انعامات ہم پر ہیں تو کیا وجہ ہے کہ ہم اس کی شکر گزاری میں نہ لگ جائیں۔مولانا روٹی نے خاص ایمان والے انسان کے متعلق ایک عجیب قصہ لکھا ہے وہ لکھتے ہیں کہ ایک شخص کے پاس لقمان بطرز غلام رہتے تھے ان کو ان سے بڑی محبت تھی اور ان سے بڑا تعلق تھا اور جو کچھ وہ کھاتا انہیں ساتھ شامل کرتا۔ایک دفعہ بے فصل خربوزہ ان کے پاس آیا تو اس نے اس کی قاشیں کاٹ کر حضرت لقمان کو دیں تو انہوں نے اسے بڑے شوق سے کھایا پھر ایک اور دی اسے بھی بڑے شوق سے کھایا۔آخر اس شخص کو بھی یہ خیال آیا کہ بڑے ہی مزے کی یہ چیز ہوگی جسے لقمان اتنے مزے اور شوق سے کھاتا ہے۔جب اس