تذکار مہدی — Page 628
تذکار مهدی ) 628 روایات سید نا محمودی کہ حضرت صاحب بھی بائیں ہاتھ سے پانی پیا کرتے تھے حالانکہ حضرت صاحب کے ایسا کرنے کی ایک وجہ تھی اور وہ یہ کہ آپ بچپن میں گر گئے تھے جس سے ہاتھ میں چوٹ آئی اور ہاتھ اتنا کمزور ہو گیا تھا کہ اس سے گلاس تو اٹھا سکتے تھے مگر منہ تک نہ لے جاسکتے تھے۔مگر سنت کی پابندی کے لئے آپ کو بائیں ہاتھ سے گلاس اٹھاتے تھے مگر نیچے دائیں ہاتھ کا سہارا بھی دے لیا کرتے تھے۔(الفضل 17 اگست 1922 ء جلد 10 نمبر 13 صفحہ 3) نماز با جماعت کی پابندی جس شخص کا باپ پانچ وقت نماز اپنے گھر پر ادا کرتا ہے اُس کے بچے کے دل میں نماز باجماعت کا احساس پیدا نہیں ہو سکتا۔باپ تو اس لئے نہیں جاتا کہ جگہ نہیں ہوتی مگر جب جگہ بن جاتی ہے تو بیٹا اس لئے نہیں جاتا کہ اُس کا باپ نہیں جاتا تھا۔اُسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ باپ کس وجہ سے گھر پر نماز پڑھا کرتا تھا وہ اس کے عمل سے ایک غلط نتیجہ اخذ کرتا ہے اور اس طرح اپنے لئے ٹھوکر کا سامان پیدا کر لیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دایاں ہاتھ ٹوٹا ہوا تھا جب آپ پانی پیتے تو گلاس آپ کو بائیں ہاتھ سے اٹھانا پڑتا تھا۔منہ کے قریب آ کر آپ گلاس کو اپنا دایاں ہاتھ بھی لگا دیتے تھے۔بعض نئے احمدی جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بائیں ہاتھ سے پانی پیتے دیکھتے تو وہ سمجھتے کہ مولوی یونہی کہتے رہتے ہیں کہ دائیں ہاتھ سے کھانا پینا چاہیے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا تعامل تو بتاتا ہے کہ بائیں ہاتھ سے بھی پانی پینا جائز ہے اور وہ خود بھی ایسا کرنے لگ جاتے تھے۔بعض لوگ جن پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نظر پڑ جاتی تھی آپ اُن کو ٹوک دیتے تھے لیکن سینکڑوں لوگ ایسے بھی ہوتے تھے جن پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی نظر نہیں پڑتی تھی اور وہ یہ نیا مسئلہ سمجھ کر اپنے گھروں کو چلے جاتے تھے کہ اسلام میں کھانے پینے کے لئے دایاں ہاتھ استعمال کرنا ضروری نہیں اور یہ بات اتنی عام ہوئی کہ حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں ایک دفعہ ہمارے نانا میر ناصر نواب صاحب نے یہ طریق جاری کیا کہ ہفتہ میں ایک دن سب دوست اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھایا کریں۔شیخ رحمت اللہ صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی صحبت میں بہت رہے تھے لیکن ایک دن کھانا کھاتے ہوئے انہوں نے بائیں ہاتھ سے گلاس اٹھایا اور پانی پی لیا۔میر ناصر نواب صاحب