تذکار مہدی — Page 558
تذکار مهدی ) 558 روایات سید نا محمود لئے دعا کرے تو اس کی دعا در اصل دعا نہیں ہو گی۔دعا اسی کی دعا کہلانے کی مستحق ہوگی جو اپنے اوپر ایک موت طاری کرتا ہے اور اپنے آپ کو بالکل بیچ سمجھتا ہے۔جو انسان یہ حالت پیدا کرے۔وہی خدا کے حضور کامیاب اور اسی کی دعائیں قابل قبول ہو سکتی ہیں۔ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالیں ( خطبات محمود جلد 9 صفحہ 104) جماعت کے دوست اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالیں میں نے دیکھا ہے کہ اکثر لوگ اپنے ہاتھ سے کام کرنا ذلت سمجھتے ہیں حالانکہ یہ ذلت نہیں بلکہ عزت کی بات ہے۔ذلت کے معنی تو یہ ہوئے کہ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ بعض کام ذلت کا موجب ہیں اگر ایسا ہے تو ہمارا کیا حق ہے کہ اپنے کسی بھائی سے کہیں کہ وہ فلاں کام کرے جسے ہم کرنا ذلت سمجھتے ہیں۔ہم میں سے ہر ایک کو اپنے ہاتھ سے کام کرنا چاہئیے۔امراء تو اپنے گھروں میں کوئی چیز ادھر سے اٹھا کر ادھر رکھنا بھی عار سمجھتے ہیں حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو میں نے بیسیوں دفعہ برتن مانجتے اور دھوتے دیکھا ہے اور میں نے خود بیسیوں دفعہ برتن مانجے اور دھوئے ہیں اور کئی دفعہ رومال وغیرہ کی قسم کے کپڑے بھی دھوئے ہیں۔ایک دفعہ میں نے ایک ملازم کو پاؤں دبانے کے لئے بلایا۔وہ مجھے دبا رہا تھا کہ کھانے کا وقت ہو گیا۔لڑکا کھانے کا پوچھنے آیا تو میں نے کہا دو آدمیوں کا کھانا لے آؤ۔کھانا آنے پر میں نے اس ملازم کو ساتھ بٹھا لیا۔لڑکا یہ دیکھ کر دوڑا دوڑا گھر میں گیا اور جا کر قہقہہ مار کر کہنے لگا حضرت صاحب فلاں ملازم کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا رہے ہیں۔اسلامی طریق یہی ہے اور میں سفر میں یہی طریق رکھتا ہوں کہ ساتھ والے آدمیوں کو اپنے ساتھ کھانے پر بٹھا لیتا ہوں۔( خطبات محمود جلد 15 صفحہ 465) محنت سے ہر پیشہ سیکھا جا سکتا ہے مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس ایک لڑکا تھا۔جس کا نام تجا تھا۔اسے آپ نے کسی معمار کے ساتھ لگایا تھا اور تھوڑے ہی عرصہ کے بعد وہ معمار بن گیا تھا۔اس میں سمجھ بہت کم تھی۔مگر مخلص اور دین دار تھا۔وہ غیر احمدی ہونے کی حالت میں آیا تھا اور بعد میں احمدی ہو گیا تھا۔اس کی عقل کا یہ حال تھا کہ ایک دفعہ بعض مہمان آئے اس وقت لنگر خانہ