تذکار مہدی — Page 557
تذکار مهدی ) 557 روایات سید نا محمود ہوئے تو لاہور کا سب سے وسیع ہال آدمیوں سے بھرا ہوا تھا۔اور اس قدر اثر دہام تھا کہ دروازے کھول دیئے گئے بلکہ باہر قناتیں لگائی گئیں اور وہ بھی سامعین سے بھر گئیں۔شروع میں تو جیسا کہ عام قاعدہ ہے آپ کی آواز ذرا مد ھم تھی اور بعض لوگوں نے کچھ شور بھی کیا مگر بعد میں جب آپ بول رہے تھے تو ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے آسمان سے کوئی بنگل بجایا جا رہا ہے اور لوگ مبہوت بنے بیٹھے تھے۔تو آواز کی بلندی دینی خدمات کے اہم حالات میں سے ہے۔پھر معلوم نہیں ہمارے دوست اس طرف کیوں توجہ نہیں کرتے یہ خیال کہ آواز بڑھ نہیں سکتی غلط ہے۔خطبات محمود جلد 15 صفحہ 251 ) دعا موت قبول کرنے کا نام ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے۔دعا موت قبول کرنے کا نام ہے اور آپ فرمایا کرتے تھے ”جو منگے سومر رہے۔جو مرے سومنکن جائے۔“ یعنی کسی سے سوال کرنا یا مانگنا ایک موت ہے اور موت وارد کئے بغیر انسان مانگ نہیں سکتا۔جب تک وہ اپنے اوپر ایک قسم کی موت وارد نہیں کر لیتا وہ مانگ نہیں سکتا۔پس دعا کا یہ مطلب ہے کہ انسان اپنے اوپر ایک موت طاری کرتا ہے کیونکہ جو شخص جانتا ہے کہ میں یہ کام کر سکتا ہوں وہ کب مدد کے لئے کسی کو آواز دیتا ہے۔کیا یہ ہوتا ہے کہ ایک شخص کپڑے پہننے کے لئے محلہ والوں کو آواز میں دیتا پھرے کہ آؤ کپڑے پہناؤ یا تھائی دھونے کے لئے دوسروں سے کہتا پھرے کہ مجھے تھالی دھلواؤ یا قلم اٹھانے کے لئے دوسروں کا محتاج بنے۔انسان دوسروں سے اس وقت مدد کی درخواست کرتا ہے جب وہ جانتا ہے کہ یہ کام میں نہیں کر سکتا۔ورنہ جس کو یہ خیال ہو کہ میں خود کر سکتا ہوں وہ دوسروں سے مدد نہیں مانگا کرتا۔وہی شخص دوسروں سے مدد مانگتا ہے جو یہ سمجھے کہ میں یہ کام نہیں کر سکتا۔اسی طرح خدا تعالیٰ سے بھی وہی شخص مانگ سکتا ہے جو اپنے آپ کو اس کے سامنے مرا ہوا سمجھے اور اس کے آگے اپنے آپ کو بالکل بے دست و پا ظاہر کرے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان میرے رستے میں جب تک مر نہ جائے اس وقت تک دعا دعا نہ ہوگی کیونکہ پھر تو بالکل ایسا ہی ہے کہ ایک شخص قلم اٹھانے کی طاقت اپنے اندر رکھتا ہوا دوسروں کو مدد کے لئے آواز میں دے۔کیا اس کا ایسا کرنا ہی نہ ہوگا۔جب ایک شخص جانتا ہو کہ اس میں اتنی طاقت ہے کہ قلم اٹھا سکے تو اس کی مدد نہیں کرے گا۔اسی طرح جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ میں خود فلاں کام کر سکتا ہوں وہ اگر اس کے